بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

فروری سے اب تک کتنے پاکستانی ایران سے واپس آچکے ہیں؟سر کاری اعدادو شمار سامنے آگئے

datetime 19  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)فروی میں کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے سے لے کر اب تک تقریباً 7 ہزار پاکستانی ایران سے وطن واپس آچکے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق28 فروری سے 15 اپریل تک تفتان بارڈر کے ذریعے 6 ہزار 800 پاکستانی واپس آئے جن میں سے زیادہ تر کو ایران میں موجود پاکستانی سفارتخانے اور مشہد اور زاہدان کے قونصل خانوں سے سہولت دی۔

نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا کہ ایرانی حکومت نے ہماری حکومت کی کوششوں سراہا اسی طرح جس طرح ہم نے ہمارے شہریوں کی تفتان سے وطن واپسی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ان کے تعاون کو سراہا۔خیال رہے کہ پاکستان میں پہلا کورونا کیس ایران کی زیارت سے واپس آنے والے زائرین میں سامنے آیا تھا اورمارچ کے پہلے ہفتے میں وطن واپس آنے والوں کی تعداد بہت زیادہ تھی جس کی وجہ سے حکومت کے وسائل پر خاصہ دباؤ پڑا اور وہ یہ دباؤ برداشت نہ کرسکا۔جس کے نتیجے میں تفتان بارڈر پر بدانتظامی کی رپورٹ سامنے آئیں جہاں زائرین کو خاصی ابتر صورتحال میں قرنطینہ کیا گیا تھا۔ترجمان دفتر خارجہ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا اس لیے ہوا کہ تمام ممالک غیر معمولی صورتحال کا سامنا کررہے تھے اور کوئی بھی اس شدت کے لیے تیار نہیں تھا اور ہمارے شہریوں کی بڑی خواہش وطن واپس آنا تھی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں میں حکومت پاکستان کی ترجیح ایرانی حکام کے ساتھ تعاون کر کے زائرین کی وطن واپسی تھی اور اب بھی تعاون جاری ہے۔عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ ایک برادر اور پڑوسی ملک ہونے کی حیثیت سے پاکستان اور ایران کے لیے ایسے نظریات اور طریقہ کار کا تبادلہ کرنا فطری امر تھا جو عالمی وبا سے پیدا ہونے والی چیلنج کو روک سکیں۔انہوں نے بتایا کہ ایران میں اب بھی 3 سو زائرین موجود ہیں اور واپسی کی پروازوں کے منتظر ہیں کیوں کہ وہ سڑک کے ذریعے سفر نہیں کرسکتے اور انہیں سفارتخانے کی جانب سے ہوٹلز مہیا کیے گئے ہیں۔

مزید یہ کہ تقریباً 200 پاکستانی طلبہ جو ایرانی یونیورسٹیز میں زیر تعلیم ہیں وہ بھی سالانہ چھٹیوں کی وجہ سے وطن واپسی کے منتظر ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان کی جانب سے ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ اٹھایا تا کہ وہ اپنے وسائل سے اہم ضروریات پوری کرسکے۔ان کا کہنا تھا کہ دو طرفہ پابندیوں کی وجہ سے ایرانی عوام کو جس چیلنج کا سامنا ہے اس نے کورونا وائرس سے جنگ کی صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا اس لیے وزیراعظم عمران خان نے ایران پر عائد دو طرفہ پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا، نتیجتاً امریکی کانگریس اس پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…