بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

شعبان المعظم کتنے دنوں کا ہوگا،جمعرات کو رمضان المبارک کا چاند نظر آئے گا یا نہیں؟رویت ہلال ریسرچ کونسل نےپیشگی بتا دیا

datetime 19  اپریل‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) رویت ہلال ریسرچ کونسل نے پاکستان میں رمضان المبارک کے چاند کی رویت سے متعلق ماہرین فلکیات اور وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے دعوے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعرات کو چاند نظر آنے کا کوئی امکان نہیں۔رویت ہلال ریسرچ کونسل کے سیکریٹری جنرل خالد اعجاز مفتی کے مطابق جمعرات 29 شعبان 23 اپریل کی شام پاکستان کے کسی بھی علاقہ میں چاند دکھائی دینے کا قطعاً کوئی امکان نہیں۔

اس بار شعبان المعظم کے 30 دن مکمل ہونے کے بعد یکم رمضان 25 اپریل ہفتے کو ہوگی۔خالد اعجاز مفتی نے بتایا کہ نیا چاند اْس وقت تک دکھائی نہیں دیتا جب تک کہ اْس کی عمر غروبِ آفتاب کے وقت کم از کم 19 گھنٹے نہ ہوجائے اور غروبِ شمس و غروبِ قمر کا درمیانی فرق کم از کم 40 منٹ ہوجائے ، نیز چاند کا زمین سے زاویائی فاصلہ کم از کم 6 ڈگری اور چاند کا سورج سے زاویائی فاصلہ کم از کم 10 ڈگری ہونا چاہیے۔اْنہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کا چاند 23 اپریل جمعرات کی صبح پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق 7بج کر 26 منٹ پر پیدا ہوگا، جمعرات کی شام غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر پاکستان کے تمام علاقوں میں 12 گھنٹوں سے بھی کم ہوگی، غروبِ شمس اور غروبِ قمر کا درمیانی فرق پاکستان بھر میں کہیں بھی 19 منٹ سے زائد نہیں ہوگا لہٰذا 29 شعبان جمعرات کی شام چاند دکھائی دینے کی شہادتوں کا اگر کہیں سے بھی اعلان کیا جائے گا تو وہ تمام شہادتیں جھوٹی، غیر شرعی اور سائنسی لحاظ سے ناقابلِ یقین ہوں گی۔خالد اعجاز مفتی نے بتایا کہ 24 اپریل کی شام غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر پاکستان کے تمام شہروں میں 35 گھنٹوں سے بھی زائد ہوچکی ہوگی، دوسری جانب غروبِ شمس و قمر کا درمیانی فرق جو 40 منٹ ہونا چاہیے وہ پشاور اور راولپنڈی، اسلام آباد میں 71منٹ ، لاہور میں 70منٹ، کوئٹہ میں 71 منٹ جبکہ کراچی میں 70 منٹ ہوگا لہٰذا اگر جمعتہ المبارک کی شام بادل نہ ہوئے تو چاند پاکستان کے تمام علاقوں میں واضح اور تادیر دکھائی دے گا جس کی بنا پر کچھ لوگ کہیں گے کہ یہ دوسری تاریخ کا چاند ہے جبکہ وہ مذہبی اور سائنسی لحاظ سے یکم ہی کا چاند ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…