بدھ‬‮ ، 21 جنوری‬‮ 2026 

باہر سے آنے والے پاکستانیوں کو ہوٹل میں قرنطینہ کا خرچہ خود اٹھانا ہوگا، حکومت نے واضح کردیا

datetime 15  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانا ہماری ذمہ داری ہے۔مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے بتایا کہ یو اے ای میں رہا کیے گئے پاکستانی قیدیوں کو جلد لائیں گے، بیرون ملک پاکستانیوں کو معلومات کیلئے ویب سائٹ بنا رہے ہیں۔معید یوسف نے کہا کہ جو مسافر ہوٹل میں قرنطینہ چاہتے ہیں وہ اپنے اخراجات کریں،

بہت سے مسافروں نے ہوٹل جانے سے انکار کردیا ہے، مسافر ہوٹل کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے تو حکومتی قرنطینہ میں جائیں۔انہوں نے کہا کہ جو پالیسی بنائی ہے وہ سب کو فالو کرنا ہوگی، اندرون ملک پروازیں اس وقت بند ہیں اور تاحکم ثانی بند رہیں گی، بھارت میں موجود 41 پاکستانی جمعرات کی صبح واپس پہنچ جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک پاکستانی مشکلات میں ہیں ہمیں احساس ہے، فیصلہ کیا گیا 20 اپریل کے بعد 6 ائیرپورٹس کھولے جائیں گے۔معید یوسف کے مطابق 4 اپریل کو ہم نے اپنی فضائی حدود جزوی طور پر کھولی ہے، اب تک ہم 2 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو واپس لاچکے ہیں، 11 اپریل تک 6 پاکستان کے ایئرپورٹ کھول دئیے ہیں۔مشیر برائے قومی سلامتی کے مطابق لائحہ عمل کے تحت وفاق نے پاکستانیوں کی واپسی کا پورا نظام بنایا، ہمیں احساس ہے فوری طور پر 35 ہزار پاکستانی واپس آنا چاہتے ہیں، بیرون ملک پاکستانی مزدور طبقہ ہماری اولین ترجیح ہے۔معید یوسف نے واضح کیا کہ بیرون ملک سے آنے والے پاکستانیوں کو سات دن کے لیے ہوٹل کے اخراجات برداشت کرنا ہوں گے۔‎دوسری جانب وفاقی حکومت نے وطن واپس آنے والے پاکستانیوں کو قرنطینہ میں رکھنے کے طریقہ کار میں تبدیلی کردی۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرون ملک سے آنے والے پاکستانی اب ائیرپورٹ سے فوری ہوٹل منتقل کیے جائیں گے جہاں انہیں 48 گھنٹے کے بجائے اب 7 روز تک ہوٹل میں رہنا ہوگا۔ذرائع نے بتایا کہ مسافروں کو 7 دن بعد ٹیسٹ نتیجہ منفی آنے کی صورت میں گھر جانے کی اجازت ہوگی تاہم ٹیسٹ مثبت آنے پر مسافروں کومزید 14 روز ہوٹل میں ہی قرنطینہ میں رہنا ہوگا۔ذرائع کے مطابق ائیرپورٹ سے ٹرانسپورٹ اور ہوٹل تک تمام خرچہ مسافروں کو خود برداشت کرنا پڑے گا۔ذرائع کے مطابق اس سے قبل بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کا خرچہ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اٹھا رہا تھا۔‎

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…