اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

پمزہسپتال سے ادویات کے بعد حکومت اور مخیر حضرات کی جانب سے دیے گئے ماسک اور سینی ٹائزر بھی چوری، عملہ ملوث نکلا،افسوسناک انکشاف

datetime 9  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی دارلحکومت کے سرکاری ہسپتال پمز کی ایمرجنسی سے ادویات کی چوری کے بعد حکومت اور مخیر حضرات کے تعاون سے ملے ہوئے ماسک اور سنیٹائزر بھی غائب ہو گئے،ہسپتال ملازم کو سیکورٹی سٹاف نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا۔پمز انتظامیہ نے واقعہ کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئیڈائریکٹرایمرجنسی ڈاکٹر فرخ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی۔

تفصیلات کے مطابق پمز ہسپتال کی ایمرجنسی میں گزشتہ روز ادویات کی چوری کا واقعہ پیش آیا،ہسپتال کارحمن نامی ڈسپنسر ادویات کی چوری پر رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ہسپتال کے سیکورٹی سٹاف نے مذکورہ ملازم کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا۔ہسپتال زرائع کے مطابق مذکورہ ڈسپنسر اس سے قبل بھی کئی مرتبہ ادویات کی چوری کے الزام میں پکڑا گیا ہے،ملزم ہسپتال کی ایمرجنسی میں ڈسپنسری سے آئی ادویات کے سٹاک کو چوری کرکے مارکیٹ میں بیچتا تھا۔تاہم اس مرتبہ ملزم نے ادویات کے ساتھ ساتھ ماسک اور سنیٹائزر بھی چوری کر لئے ہیں. ہسپتال انتظامیہ نے نوٹس لیتے ہوئے واقعہ کی انکوائری کے لیے کمیٹی قائم کردی ہے،ڈائریکٹرایمرجنسی ڈاکٹر فرخ کو کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔اس حوالہ سے ڈاکٹر فرخ کا کہنا تھا کہ ملزم کو پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے،محکمانہ انکوائری کے لیے کمیٹی قائم کردی گئی ہے جو جلد اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔رپورٹ کی روشنی میں مزید محکمانہ کاروائی ملزم کے خلاف عمل میں لائی جائیگی۔وہیں پمز کی سیکورٹی کے انچارج کا کہنا تھا کہ معاملہ کمیٹی کے پاس ہے اور ملزم کو فوری طور پر پولیس کے حوالے کردیا گیا تھا۔پمز زرائع کا کہنا ہے کہ پمز میں ادویات چوری کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے پمز میں ایک منظم مافیاء کام کرتا ہے جو ہر ماہ لاکھوں روپے کی ادویات پمز سے چوری کرکے جی ایٹ اور راولپنڈی کے ایک بازار کے مخصوص میڈیکل سٹورز پر بیچ دیتے ہیں۔زرائع کا مزید کہنا تھا کہ ہسپتال کی کئی شخصیات اس مافیاء کو باقاعدہ تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…