جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

نئی دوا کا تجربہ چوہوں اور بندروں کے بجائے قیدیوں پر کیا جائے، سعودی حکومت کو حیرت انگیز تجویز دے دی گئی

datetime 8  اپریل‬‮  2020 |

ریاض (این این آئی)سعودی عرب کے نوجوانوں میں مقبول اداکارہ مرام عبدالعزیز نے حکومتوں کو متنازع تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نئی ادویات کی آزمائش چوہوں اور بندروں پر کرنے کے بجائے جیل کے قیدیوں پر کریں۔اداکارہ کی جانب سے حکومتوں کو متنازع تجویز دیے جانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایاگیااور انہوں نے اب مذکورہ تجویز والی ٹوئٹ بھی ڈیلیٹ کردی اور بعد ازاں انہوں نے اس حوالے سے وضاحتی ٹوئٹ بھی کی ہے۔

مرام عبد العزیز نے اپنی ایک ٹوئٹ کے ذریعے مشورہ دیا کہ نئی ادویات کا تجربہ چوہے اور بندروں پر کرنے کے بجائے جیل کے قیدیوں پر کیا جانا چاہیے۔اداکارہ نے اپنی ٹوئٹ میں کسی خاص ملک کو یہ تجویز پیش نہیں کی البتہ ان کی جانب سے عربی میں کی جانے والی ٹوئٹ سے اندازہ لگایا گیا کہ انہوں نے اپنے ہی ملک سعودی عرب کی حکومت کو تجویز دی کہ وہ ان کے مشورے پر عمل کر سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق اداکارہ نے حکومت کو تجویز پیش کی کہ وہ چوہے اور بندروں جیسے جانوروں کے بجائے جیل کے قیدیوں پر نئی ادویات کا تجربہ کرے اور خاص طور پر ان قیدیوں پر دوا کو آزمایا جائے جو سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔مرام عبدالعزیز نے اپنی تجویز میں کہا کہ اگر ان کے پاس اختیار ہوتا تو وہ جانوروں کے بجائے قیدیوں پر دوا کے تجربات کرنے کا حکم دیتیں، چاہے ایسے تجربات کی کوئی گارنٹی نہ بھی ہوتی۔سعودی اداکارہ نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ وہ قیدیوں پر جیل میں صرف کھانے، شراب نوشی اور ادویات پر توانائی صرف نہیں کرتی بلکہ وہ ان قیدیوں پر نئی دوا کا تجربہ بھی کرتیں اور خاص طور پر ان قیدیوں پر دوا کو آزمایا جاتا جو ملک کے لیے سیکیورٹی خطرہ ہوں۔عرب میڈیا کے مطابق اداکارہ کی جانب سے متنازع تجویز دیے جانے پر لوگوں نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں جرمن ڈکٹیٹر ایڈولف ہٹلر سے تشبیح دی اور کئی افراد نے ان کی تجویز کو انسانیت کے خلاف قرار دیا۔کچھ افراد نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ متنازع تجویز سے سستی شہرت حاصل کرنا چاہتی ہیں،

تنقید کے بعد اگرچہ اداکارہ نے مذکورہ پوسٹ ہٹادی تاہم انہوں نے ایک اور ٹوئٹ میں بتایا کہ وہ مرنے کے بعد اپنے تمام اعضا طبی تحقیق کے لیے عطیہ کردیں گی۔ساتھ ہی اداکارہ نے وضاحت کی کہ نئی دوا کے تجربات کے لیے طبی ماہرین کو صحت مند جسم درکار ہوتا ہے اور وہ مذکورہ معیار پر پورا نہیں اترتیں، اس لیے وہ مرنے کے بعد اپنے تمام اعضا عطیہ کردیں گی تاکہ ان سے فائدہ حاصل کیا جا سکے۔اگرچہ اداکارہ نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ وہ جسمانی طور پر مکمل صحت مند نہیں تاہم انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ انہیں کیا عارضہ لاحق ہے یا وہ کیوں مکمل طور پر صحت مند نہیں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…