اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

انکوائری رپورٹ کی سپریم کورٹ میں بھی گونج، چیف جسٹس نےحکومت کو بڑا حکم جاری کردیا

datetime 7  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ حکومت کو آٹا چینی کا مسئلہ درپیش ہے اور بڑے بڑے لوگ ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ میں کورونا وائرس کے باعث اسپتالوں کی بندش اور سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ بلوچستان میں ڈاکٹروں کے حوالے سے کیا اطلاعات ہیں؟۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے بتایا کہ تمام ڈاکٹرز کو چھوڑ دیا گیا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ ڈاکٹرز صورتحال پر حکومت کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں تاہم ڈاکٹرز کی اکثریت بہترین فرائض سر انجام دے رہی ہے، اٹارنی جنرل کے مطابق گرفتار ہونے والے ڈاکٹرز کی مستقلی کا معاملہ تھا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کس کی جرات ہے حکومت کو بلیک میل کرے، حکومت قانون سازی کرے پکڑے ان کو۔چیف جسٹس نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو حکم دیا کہ موجودہ صورتحال میں ڈاکٹرز کو جو چیزیں چاہئیں وہ روزانہ کی بنیاد پر فراہم کریں، جتنی کٹس اور سہولیات دستیاب ہیں وہ فراہم کریں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ مقامی حکومتیں ہوتیں تو لوگوں کی نچلی سطح پر مدد ہوتی، حکومت نے مقامی حکومتوں کو خود غیر موثر کردیا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ حکومت کو آٹے اور چینی کا مسئلہ بنا ہوا ہے، حکومت خود اپنے لیے مسائل کھڑے کر رہی ہے، بڑے بڑے لوگ ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت کوکریڈٹ دینا چاہیے کہ آٹا چینی بحران کی انکوائری رپورٹ سامنے لائی۔چیف جسٹس نے کہا کہ کورونا کی وبا سے لڑنے کیلئے ہنگامی قانون سازی کی ضرورت ہے، پارلیمنٹ کو نئے قانون بنانے چاہئیں۔عدالت نے حکومت کو تفتان، چمن، طور خم پر فوری طور پر ایک ہزار بستروں پر مشتمل قرنطینہ مراکز بنانے اور انہیں ایک ماہ میں مکمل فعال کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ان داخلی راستوں پر کورنٹین سنٹر بنانے میں ناکام رہی، ملک بھر کے ڈاکٹرز کو کورونا وائرس سے حفاظتی کٹس فوری طور فراہم کی جائیں، اگر عدالتی احکامات پر عمل نہ کیا گیا تو توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…