جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

راجستھان کے قرنطینہ میں موجود مقبوضہ کشمیر کی میڈیکل طالبات سخت ذہنی تنائوکا شکار، مودی سرکار کیا افسوسناک کام کر رہی ہے؟

datetime 4  اپریل‬‮  2020 |

سرینگر (نیوز ڈیسک) بھارتی حکومت ایران کی شیراز میڈیکل یونیورسٹی سے مہلک کورونا وائرس کے باعث واپس لوٹنے والی مقبوضہ کشمیر کی 53 ایم بی بی ایس طالبات کو ریاست راجستھان میں قائم ایک قرنطینہ میں مقررہ مدت پوری کرنے کے باوجود اپنے گھروں کو واپس نہیں بھیج رہی جس کی وجہ سے وہ سخت ذہنی تنائو میں مبتلا ہیں۔ یونیورسٹی سے واپس آنے والی طالبات میں سے ایک انساب نبی نے بتایا کہ انہوں نے راجستھان کے ایک بارڈر علاقے میں قائم کیے گئے قرنطینہ میں چودہ روز سے زائد کی مدت پوری کر لی ہے جبکہ

تمام طالبات کے ٹیسٹ دو مرتبہ منفی آئے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں گھروں کو نہیں پہنچایا جا رہا۔ طالبات نے کہا کہ انہیں جہاں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے یہ ایک سرحدی علاقہ ہے جہاں صرف فوجی ہی رہ سکتے ہیں۔ طالبات نے بھارتی حکومت اور مقبوضہ علاقے کی قابض انتظامیہ سے اپیل کی انہیں اپنے گھروں تک پہنچانے کے انتظامات کیے جائیں۔ انساب کے علاوہ تقریباً 250 کشمیری طلبا اس وقت راجستھان میں قرنطینہ میں ہیں۔ جن میں سے 170 جیسلمیر میںہیں۔ جس میں 100 سے زائد ایران سے آئے ہوئے طلبہ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…