پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

عالمی صورتحال کے سبب ملکی برآمدات میں کمی

datetime 4  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)ملک میں اشیا کی برآمدات مارچ کے مہینے میں سالانہ بنیادوں پر 8.46 فیصد کم ہو کر ایک ہزار 807 ارب ڈالر ہوگئی جوگزشتہ برس ایک ہزار 974 ڈالر تھی، اس کی بڑی وجہ کورونا وائرس کی وجہ سے ریٹیل کی دکانوں کا بند ہونا ہے۔پاکستان ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 20-2019 کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران برآمدات کی رقم گزشتہ برس کے

17 ارب 7 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے مقابلے 2.23 فیصد اضافے کے ساتھ 17 ارب 45 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔حکومت نے گزشتہ مالی سال کے 24 ارب 65 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے مقابلے رواں مالی سال کے دوران برآمدات 26 ارب 18 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا تھا۔اس سلسلے میں مالی سال 20-2019 کے بجٹ میں نہ صرف برآمدات میں استعمال ہونے والے خام مال اور جزوی تیار اشیا کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی بلکہ ان اشیا کو ہر قسم کی ڈیوٹیز سے بھی مستثنٰی کر دیا گیا تھا۔دوسری جانب برآمدات میں معمولی اضافے کے باوجود درآمدات میں کمی کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے جس سے ملک کو کچھ ریلیف ملا ہے۔اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ گزشتہ برس کے 40 ارب 67 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے مقابلے رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران درا?مدات 34 ارب 81 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہی اس کے علاوہ درآمدی اشیا کی قیمت مارچ کے دوران 19.85 فیصد کم ہو کر 3 ارب 29 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہوگئی جبکہ گزشتہ سال یہ رقم 4 ارب 11 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھی۔نتیجتاً رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران درآمدات میں دہرے ہندسوں کی کمی سے تجارتی خسارے میں 26.45 فیصد کمی واقع ہوئی۔دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو مالی سال 20 کے ابتدائی 9 ماہ تجارتی فرق کم ہو کر 17 ارب 36 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ہوگیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران 23 ارب 60 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تھا اسی طرح صرف مارچ کے مہینے میں تجارتی خسارے میں 30.35 فیصد کم ہو کر ایک ہزار 49 کرور 20 لاکھ ڈالر رہا جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران 2 ارب 14 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھا تاہم وزارت تجارت نے تخمینہ لگایا ہے کہ سالانہ تجارتی خسارہ رواں مالی سال کے دورام 12 ارب ڈالر کم ہو کر 19 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے جو کہ مالی سال 19-2018 میں 31 ارب ڈالر تھا۔کلاتھنگ اینڈ ایکسپورٹ ایسوسی ایشن کے اندازے کے مطابق مارچ اور اپریل کے دوران غیر ملکی خریداروں کی جانب سے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کے آرڈرز یا تو منسوخ یا موخر ہوگئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…