منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مریض 7سے 10دنوں میں صحت یاب، پاکستانی ڈاکٹر نے کورونا وائرس کی دوا بنا لی

datetime 1  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف پاکستانی ڈاکٹر جان عالم نے کورونا وائرس کا علاج دریافت کرنے کا دعویٰ کر دیا ۔ ڈاکٹر جان عالم کا کہنا ہے کہ میرے پاس کورونا وائرس کا علاج موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے ایک ایسی دوا بنائی ہے جس سے کورونا وائرس7 سے 10دن تک مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ جان عالم کا کہنا تھا کہ یہ دوائی لیکویڈ ڈراپس کی صورت میں ہے۔

کورونا وائرس کے باعث سب سے پہلے فلو ہوتا ہے جس کے بعد کورونا وائرس جسم کے مختلف حصوں میں اپنا گھر بنا لیتا ہے۔ تاہم جو دوائی میں نے بنائی ہےاس سے کورونا وائرس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ جان عالم کا کہنا ہے کہ ڈراپس کو ناک کے دونوں طرف چار چار قطرے ڈالے جائیں گے تو فلو دس منٹ کے اندر ٹھیک ہو جائے گا اور ساتھ ہی ساتھ کورونا وائرس کو بھی مات دی جا سکے گی۔ان کا کہنا تھا کورونا پھیپھڑوں پر بھی حملہ کرتا ہے اور نالی میں جم جاتا ہے جس کے باعث سانس لینے میں بھی دشواری ہوتی ہے۔ اسکے لئے میری بنائی گئی دوائی ڈال کر اگر بھاپ لی جائے تو یہ سانس کی نالی کو بھی کھول دے گا۔بھاپ ہر گھنٹے لینا ہوگی۔ دس دنوں کے اندر مریض بالکل ٹھیک ہو جائے گا۔ جان عالم کا کہنا تھاکہ میں چاہتا تو دنیا کے کسی اور ملک میں جا سکتا تھا اور اربوں روپے کما سکتا تھا تاہم میں نے اپنی ملک کی خدمت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جان عالم کا کہنا ہے کہ میں چاہتا ہو کہ پاکستان اس دوائی کو پوری دنیا میں ایکسپورٹ کرے۔ پورے دنیا پاکستان کو یاد رہے اور سراہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دوائی کسی فارمہ کمپنی کے ذریعے تیار نہیں ہو گی بلکہ میں اس کو خود تیار کروں گا میں نے چھوٹی سی لیب بنا رکھی ہے اور اپنی ٹیم کو الرٹ کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…