پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

کمرشل امپورٹرزکا انکم ،سیلز ٹیکس ، آڈٹ نوٹسز پر احتجاج، ایف بی آر سے انتہائی اہم مطالبہ کر دیا

datetime 30  مارچ‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) کے چیئرمین و سابق ڈائریکٹر کراچی اسٹاک ایکسچینج امین یوسف بالاگام والانے کمرشل امپورٹرز کو انکم ٹیکس اور سیلزٹیکس ودیگرآڈٹ نوٹس بھیجنے پر احتجاج کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آرسے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں جاری بدترین اقتصادی بحران اور کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے لاک ڈاؤن کے باعث انکم ٹیکس و سیلز ٹیکس سمیت تمام نوٹسز 2ماہ کے لیے منسوخ کیے جائیں

اور چیف کمشنر سمیت تما م ریجنل ٹیکس افسران کوواضح ہدایت جاری کی جا ئے کہ کمرشل امپوٹرز کو ہراساں نہ کرنے کیا جائے تاکہ کمرشل امپورٹرزلاک ڈاؤن کی مدت ختم ہونے کے بعد درآمدی سرگرمیاں معمول کے مطابق بحال کرسکیں اور ملکی صنعتوں باالخصوص ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بلارکاوٹ طلب کے مطابق خام مال دستیاب ہوسکے۔امین یوسف بالاگام والا نے کہا کہ ایک طرف کرونا وائرس کا خوف اور کاروبار،صنعتوں کی بندش تو دوسری طرف تاجروں کو آڈٹ کے نوٹسز بھیجنا کہاں کی دانشمندی ہے حالانکہ وزیراعظم بار بار میڈیا کے سامنے یہ یقین دہانی کرواتے رہے ہیں کہ کاروبار کرنے کو آسان بنانے اور موجودہ سنگین معاشی صورتحال میں کاروبار وصنعت کو ریلیف دیا جائے گا مگر اس کے باوجودایف بی آر کی جانب سے آڈٹ نوٹسز بھیجے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کہ تمام نوٹسز2ماہ کے لیے منسوخ کرکے کمرشل امپورٹرزز کو ریلیف دیا جائے تاکہ تجارت وصنعت کا پہیہ بلا رکاوٹ گھومتا رہے اور ملکی ترقی کرے نیزروزگار کے بھی وسیع مواقع پیدا ہوں۔انہوں نے مزید کہاکہ اگر انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس ودیگر آڈٹ نوٹسزکم ازکم 2ماہ کے لیے منسوخ نہیں کیے گئے تو ملکی معیشت میںریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی ٹیکسٹائل انڈسٹری بری برح متاثر ہوگی کیونکہ کمرشل امپورٹرزٹیکسٹائل انڈسٹری کو بلارکاوٹ پیداواری سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے خام مال فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔امین یوسف بالاگام والا نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ غیر رجسٹرڈ افراد کو مال کی فروخت پر شناختی کارڈ کی شرط 6ماہ کے لیے مؤخر کی جائے اور تاجربرادری باالخصوص چھوٹے تاجروں کو تباہ ہونے سے بچایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…