جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

دنیا بھر میں تباہی پھیلانے والی کرونا بیماری کاچین میں پہلا شکار کون اور کس کاروبار سے منسلک؟حکومت کی تحقیقاتی دستاویز لیک ،اہم انکشافات

datetime 29  مارچ‬‮  2020 |

بیجنگ(این این آئی)چینی حکومت کی طرف سے تیار کردہ ایک دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں تباہی پھیلانے والی کرونا بیماری کا پہلا شکار ہونے والی ایک چینی خاتون تھی جو کیکڑوں کی خریدو فروخت کرتی تھی۔ حکومت کی یہ دستاویز حال ہی میں لیک ہوئی ہے جس میں چین میں پہلی کرونا مریضہ کی شناخت ظاہر کی گئی ہے۔

عرب ٹی وی کے مطابق 57 سالہ کیکڑے فروش کی کہانی رواں ماہ کے اوائل میں امریکی اخبار میں پہلی بار شائع ہوئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق 10 دسمبر 2019 کواس میں بیماری کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں۔ اس وقت وہ ووہان شہرکے ہوان بازار میں اپنی دکان پر کیکڑے فروخت کرتی تھی۔وہاں سے یہ متعدد موذی مرض بازار کے کئی دوسرے دکانداروں اور گاہکوں میں پھیلا ئواور پھر یہ ایسا بے لگام ہوا کہ آج نصف ملین سے زیادہ لوگ اس کا شکار ہیں اور 25 ہزار سیزیادہ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔کیکڑے فروش پہلی کرونا مریضہ کی شناخت وی ویکسیان کے نما سے کی گئی ہے۔ اسے کرونا کی بیماری کے علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ اب وہ تندرست ہوچکی ہے۔ اس کا کہنا تھاکہ وہ اکثر سردیوں میں نزلہ زکام ہوتا تھا۔ شروع میں اس نے بخار اور نزلہ زکام کو معمول کی بیماری سمجھا اور دوائی لے کرکام اپنا کام جاری رکھا مگر ایک دن وہ اچانک ہوش کھو بیٹھی۔ خاتون نے چینی رسالہ کو بتایا کہ شروع میں مجھے تھکن سی محسوس ہونے لگی لیکن یہ تھکاوٹ پچھلے سالوں کی تھکاوٹ کی طرح نہیں تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے ہر موسم سرما میں میں ہمیشہ فلو ہوتا ہے لہذا میں نے سوچا کہ یہ فلو تھا۔لیکن اس عجیب فلو کے ایک ہفتے بعد وی اسپتال کے بستر پر تقریبا بے ہوش ہو گئی۔

وی کو یہ بیماری 10 دسمبرکو لگی مگر اسے علاج کے لیے دسمبر کے آخری دو ہفتوں کے دوران کیا گیا۔ اس عرصے میں یہ موذی مرض سیکڑوں لوگوں میں پھیل چکا تھا۔وی نے امریکی اخبار کو بتایا کہ اس کے آس پاس کام کرنے والوں کے علاوہ ان کی ایک بیٹی ، اس کی بھانجی اور اس کے شوہر کرونا کا کا شکار ہو گئے۔ اس کا کہنا تھا کہ ممکن یہ وائرس اسے مارکیٹ کے ایک مشترکہ ٹوائلٹ سے لگا ہو۔وی صحت یاب ہوچکی ہے۔ اسے جنوری میں اسپتال سے فارغ کردیا گیا تھا۔ اس وقت چینی عہدیدار نئے وائرس کے پھیلائو کی اطلاعات کو دبانے کی کوشش کر رہے تھے۔ بیجنگ نے آخر کار اس خطرے کو تسلیم کیا اور اس وبا پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے۔ یہ اقدامات کامیاب ثابت ہوئے ہیں کیونکہ چینی حکام کی جانب سے ہر روز رپورٹ کیے جانے والے نئے کیسز کی تعداد میں ڈرامائی کمی واقع ہوئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…