پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

’’ پھونکوں کے ذریعے کرونا وائرس کا 100فیصد علاج ‘‘ پولیس نے کرونا وائرس کے دم کے نام پر عوام کو چونا لگانیوالے جعلی پیر کو گرفتار کرلیا، علاج کے نام پر شہریوں سےکتنا بھاری رقوم اینٹھتا رہا ؟ ہوشربا انکشافات

datetime 24  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پوری دنیا اس وقت مہلک وباء کرونا وائر س سے لڑنے کیلئے دن رات ایک کر رہی ہے جبکہ پاکستان میں عوام کو لوٹنے کا بازار گرم ہے ۔ کوئی ماسک کے نام پر پیسے کما رہا ہے تو کوئی سینٹائزر مہنگے داموں فروخت کر رہا ہے ، باقی مافیاز نے تو ٹرمپ کے کلوروکوئن کے کرونا وائرس کیلئے استعمال کے اعلان کے بعد تو پاکستان میں کلوروکوئن نامی دوائیاں نایاب ہو گئیں ہیں کسی دور میں یہ

گولی ایک روپے کی ہوتی تھی آج مافیاز منہ مانگی قیمتوں میں اسے فروخت کر رہے ہیں جبکہ دوسر ی طرف جعلی پیروں نے بھی اپنی دکانیں چمکانا شروع کر دیں ۔ گجرات میں دم کے عوض عوام کو لوٹنے والے جعلی پیر گرفتار کر لیاگیا ۔ تفصیلات کے مطابق پولیس نے بتایا ہے کہ جعلی پیر عوام سے کرونا وائرس سے بچائو کا دم کر رکے پیسے بٹورتا تھا ،گجرات کے علاقہ گنجہ سے کیس رپورٹ ہوا کہ وہاں کوئی جعلی پیرلوگوں کو دم کے نام پر بیوقوف بنا رہا اورکرونا وائرس کے علاج کی 199فیصد گارنٹی دے کر بھاری رقم ہتھیا رہا تھاجسے گجرات پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا ہے ۔ واضح رہے کہ اس سے قبل کراچی سے ایک جعلی ڈاکٹر بھی گرفتار کیا گیا تھا جس کرونا وائرس کی جعلی ویکسین فروخت کر کے پیسے کما رہا تھا ۔ یہاں سے افسوس کیساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان میں کسی قسم کا بحران آتا ہے تو مافیاز سمیت جس کا ہاتھ لگتا ہے وہ عوام کو لوٹتا ہے ، ٹماٹر کے بحران میں مافیاز نے اربوں روپے بٹورے ، آٹا بحران میں ، چینی بحران ، امراء اپنی دولت میں اضافہ ہی کرتے چلے آرہے ہیں آج پوری دنیا کرونا وائرس جیسی مہلک وباء کا شکار ہے تو ہمیں ایسے وقت میں چاہیے کہ ہم پاکستانی عوام کیلئے ہر ممکن کوشش کریں تاکہ ان کی زندگیاں آسان ہو سکیں ،ہمیں بحثیت مسلمان اس مشکل وقت میں دنیا کیلئے عظیم مثال قائم کرنی چاہیے تاکہ دنیا پاکستانیوں کے عزم کی مثالیں دے ۔ لوٹ مار کر بازار چھوڑ کر اللہ سے توبہ استغفار کرنی چاہیے تاکہ وہ ہم سے راضی ہو اور ہمیں اس وباء سے چھٹکار ا عطا کرے ۔ خدارا لوگوں کی زندگیاں آسان کیجئے تاکہ اللہ پاک آپ کیلئے آسانیاں پیدا کرے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…