پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

محکمہ محنت سندھ کی لاپرواہی کے باعث صوبے میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات میں مزید اضافہ ہوگیا، حیرت انگیز بات کر دی گئی

datetime 17  مارچ‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی) محکمہ محنت سندھ کی لاپرواہی کے باعث صوبے میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات میں اضافہ ہوگیا ۔کراچی سمیت پورے صوبے میں فیکٹریوں میں بغیر کسی حفاظتی انتظامات کے ہزاروں محنت کش کام کرنے پر مجبور ہیں ۔مزدوروں نے حکومت سندھ سے محکمہ محنت کی غفلت کا نوٹس لیتے ہوئے محنت کشوں کے لیے حفاظتی کٹس فراہم کرنے کی اپیل کی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کورونا وائرس کی وبا تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے ۔صوبہ سندھ اس وقت کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ۔حکومت سندھ نے عوام کو اس وائرس سے بچانے کے لیے مختلف گائیڈ لائنز جاری کی ہیں تاہم حکومت سندھ کے محکمہ محنت کے حکام نے احکامات کو ہوا میں اڑادیا ہے ۔ذرائع کے مطابق صوبے بھر میں قائم سیکڑوں فیکٹریوں میں ملازمین بغیر ماسک اور دستانوں کے اپنے کاموں میں مصروف ہیں جبکہ حکومت سندھ کی جانب سے ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ فیکٹریوں میں کام کرنے والے ملازمین کے لیے حفاظتی ماسک اور دستانوں کا انتظام یقینی بنایا جائے تاکہ ان کو کورونا وائرس سے بچایا جاسکے ۔ذرائع نے بتایا کہ اس وقت صوبے کی تمام فیکٹریوں میں ملازمین بغیر کسی حفاظتی انتظامات کے کام کررہے ہیں جس کے باعث کورونا وائرس کے مزید پھیلا ؤ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔اس ضمن میں محنت کشوں کا کہنا ہے کہ یہ حکومت سندھ اور فیکٹری انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے ان کی حفاظت کو یقینی بنائے ۔جس تیزی کے ساتھ یہ وائرس پھیل رہا ہے اس کے پیش نظر ضروری ہے کہ ملازمین کو فوری طور پر حفاظتی ماسکس اور دستانے فراہم کیے جائیں تاکہ وہ بلاخوف و خطر اپنے فرائض کی انجام دہی کرسکیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…