جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں کورونا وائرس زیادہ پھیلا تو اس سے نمٹنے کی صلاحیت اور وسائل نہیں وزیر اعظم عمران خان نے ہاتھ کھڑےکر دئیے ، دنیا سے قرضے معاف کرنے کا مطالبہ

datetime 17  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن )وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے باعث خراب صورتحال کے پیشِ نظر پاکستان سمیت غریب ممالک کے قرضے معاف کرنے کا مطالبہ کردیا۔غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قرضے معاف ہونے سے کورونا وائرس سے نمٹنے میں مدد ملے گی لہٰذا عالمی برادری غریب ممالک کے قرضے معاف کرنے پرغور کرے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس زیادہ پھیلا تو اس سے نمٹنے کی صلاحیت اور وسائل نہیں ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے ایران پر سے بھی پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پابندیاں اٹھانے سے ایران کو کورونا وائرس سے نمٹنے میں مدد ملے گی لہٰذا مشرق وسطیٰ میں کورونا سے بدترین متاثر ایران پر سے پابندیاں ہٹائی جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کورونا وائرس دنیا کے ترقی پزیر ممالک کی معیشتوں کو تباہ کرسکتا ہے، ترقی یافتہ ممالک غریب ممالک کے قرضے معاف کرنے کے لیے تیار رہیں، وائرس سے پیدا بحران سے ترقی پذیر ممالک میں بھوک اور غربت پھیلنے کا ڈر ہے، عالمی برادری کو پاکستان جیسے ممالک کے لیے قرضوں کی معافی کی کوئی صورت نکالنے کا سوچنا ہوگا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ممالک کو کورونا وائرس سے بدترین معاشی بدحالی کا خدشہ ہے، ترقی یافتہ معیشتوں کا اقدام کمزور معیشتوں کو کورونا وائرس کے بحران سے لڑنے میں مدد دے گا۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو بچانیکی کوشش کررہے ہیں، اگرکورونا کی صورتحال سنگین ہوئی توکمزور معیشت کو بچانے میں ناکام ہوجائیں گے، پاکستان کی برآمدات متاثر ہوں گی اور بیروزگاری میں اضافہ ہوگا، آئی ایم کا قرضہ پاکستان کے لیے ناممکن معاشی بوجھ بن جائے گا۔

اگرکورونا کی صورتحال سنگین ہوئی توکمزور معیشت کو بچانے میں ناکام ہوجائیں گے:انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے پاکستان، بھارت اور افریقی ممالک کو یکساں بحران کا سامنا ہوگا، پاکستان کے پاس کسی بڑے بحران سے نمٹنے کے لیے علاج کی سہولیات ہیں نہ وسائل۔طالبان امریکا مذاکرات کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ طالبان کے حوالے سے افغان صدر کا بیان مایوس کن ہے، حکومت میں آنے کے بعد امریکا کے ساتھ افغان امن معاہدے پر کام کیا، افغان امن عمل میں پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی جانی چاہیے جب کہ پاکستان اب امن کے لیے امریکا کا ساتھی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…