ہفتہ‬‮ ، 14 فروری‬‮ 2026 

کیا ہم اجتماعی خود کشیاں کرلیں؟ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا،ہمیں سڑکوں پر آنے پر مجبور نہ کیا جائے ورنہ۔۔۔ خالد مقبول صدیقی کا دوٹو ک اعلان

datetime 14  مارچ‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہاہے کہ حالات ہمیں سڑکوں پر آنے پر مجبور کررہے ہیں، کراچی کی نمائندہ جماعت ہونے کے باوجود ہمارے دفاتر بند ہیں، کارکنان گرفتار یا پھر لاپتہ ہیں،ہمارے فلاحی ادارے کو بند کردیا گیا ہے، ایوانوں اور عدالتوں میں بھی کوئی شنوائی نہیں ہورہی، کیا ہم اجتماعی خود کشیاں کرلیں، اگر ایوان بے اثر ہوگئے ہیں تو ہم سڑکوں پر آکر پوری دنیا کو ناانصافی سے آگاہ کریں گے،

ہمیں گرفتار کرنا ہے تو کرلیں، حالات کی ساری ذمے داری سندھ کی بدعنوان اور نسل پرست حکومت کی ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو ایم کیوایم پاکستان کے عارضی مرکز بہادرآبادمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ سندھ کے شہری اپنے حقوق کے لیے رو رہے ہیں، ہم 50 سال سے کوٹہ سسٹم اور دیگر پابندیوں کی زد میں ہیں، قومیت کے نام پر سندھ کو برباد کیا گیا، تعلیم اور روزگار کے دروازے بند کردیے گئے ہیں، سندھ میں سفارشی ٹولے ہیں یہاں میرٹ کا قتل ہورہا ہے، میرٹ کے نام پر نااہل اور بدعنوان لوگوں کو تعینات کیا جاتا ہے، پولیس، ڈاکٹر یا پھر ٹیچر ہو وہاں بھرتی کرکے یہاں ٹرانسفر کردیا جاتا ہے، شہر قائد میں چور اور سپاہی دونوں کا تعلق اس شہر سے نہیں ہے، لاڑکانہ سے 75 پولیس والوں کو بلالیا گیا ہے، کچھ دن کے لیے ان تبادلوں کو روک دیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ میرٹ کے نام پر اداروں کو بدعنوان، بے ایمان اور نااہل لوگوں کے حوالے کردیا گیا ہے، یہاں سے پاس ہونے والے ملک بھر میں نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہوں گے، میرٹ کو جانچنے والے اداروں میں سب سے زیادہ کرپشن ہے، سندھ پبلک سروس کمیشن میں کون لوگ بیٹھے ہیں، ان کا ڈومیسائل کہاں کا ہے اور ان کی سیاسی وابستگیاں کس سے ہیں۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ وفاق کب تک خاموش رہے گا، ریاست سے سوال ہے کہ سندھ کے شہری علاقوں کو انصاف کون دے گا؟، کراچی کی تباہی میں کس کا ہاتھ ہے؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…