منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

وفاقی حکومت کیلئے منظور شدہ 6 لاکھ 63 ہزار 234 اسامیوں میں کتنی  اسامیاں خالی  ہیں؟تفصیلی رپورٹ سامنے آگئی

datetime 12  مارچ‬‮  2020 |

لاہور (این این آئی) وفاقی حکومت کے لیے منظور شدہ 6 لاکھ 63 ہزار 234 اسامیوں میں سے 81 ہزار سے زائد اسامیاں اس وقت خالی ہیں۔اسٹیبشمنٹ ڈویژن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال 19-2018 میں وفاقی حکومت کے لیے منظور شدہ اسامیوں کی تعداد 6 لاکھ 63 ہزار 234 تھی تاہم اس میں سے 5 لاکھ 81 ہزار 755 اسامیوں پر افسران اور ملازمین دستیاب تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ

مجموعی تعداد کی 12.29 فیصد یا 81 ہزار 479 اسامیاں خالی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 3 لاکھ 99 ہزار 265 ملازمین وفاقی حکومت کے 206 خودمختار اداروں یا کارپوریشنز میں کام کررہے ہیں جبکہ منظور شدہ اسامیوں کی تعداد 5 لاکھ 15 ہزار 174 ہے یعنی ایک لاکھ 15 ہزار 909 ملازمین کی کمی ہے۔گزشتہ برس 4 لاکھ 92 ہزار 564 اسامیاں منظورہ شدہ تھیں جس میں 3 لاکھ 97 ہزار 487 پر بھرتیاں کی گئیں، یعنی منظور شدہ اسامیوں کی تعداد میں 4.59 فیصد اضافہ جبکہ حکومتی اداروں میں ملازمین کی تعداد میں 0.45 فیصد اضافہ ہوا اسی طرح پبلک سیکٹر میں ملازمتوں کی صورتحال میں گزشتہ 10 برسوں کے دوران سول سرونٹس کی تعداد میں اضافے اور کمی کا ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا اور 10-2009 سے 19-2018 کے درمیان پبلک سیکٹر میں ملازمتوں کے مواقع تبدیل ہوتے رہے تاہم گزشتہ 5 سالوں یعنی 15-2014 سے 19-2018 کے درمیان منظور شدہ اسامیوں اور ملازمین کی تعداد کے لحاظ سے وفاقی حکومت کا حجم اضافے کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے یعنی اوسطاً یہ شرح 5.96 فیصد اور 6.17 فیصد رہی۔تقسیم کے اعتبار سے 13 ہزار 347 سیکریٹریٹ ملازمین ہیں لیکن 2 ہزار 811 اسامیاں خالی ہیں، سب سے زیادہ تعداد میں اسامیاں منسلک/ماتحت محکموں میں ہیں جن کی تعداد 5 لاکھ 58 ہزار 943 ہے اور 77 ہزار 28 اسامیاں خالی ہیں۔وفاقی حکومت میں محکمہ داخلہ سول آرمڈ فورسز کے باعث سب سے بڑا انتظامی یونٹ ہے جس میں وفاقی حکومت کے کل ملازمین میں سے 39.76 فیصد یعنی 2 لاکھ 30 ہزار 817 ملازمین کام کرتے ہیں۔دوسرا بڑا محکمہ دفاع ہے جس میں 21.76 فیصد جبکہ ریلوے میں 12.52 فیصد، پاکستان پوسٹ میں 5.05 فیصد اور محکمہ ریونیو میں 3.60 فیصد ملازمین کے ساتھ تیسرے چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہیں اور دیگر محکموں میں مجموعی طور پر ملازمین کی تعداد 17.40 فیصد ہے۔‎



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…