پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

کرونا وائرس تیزی سے پھیلنے کا خدشہ، بیرون ممالک سے آنیوالوں کے معائنے کیلئے نئی حکمت عملی سامنے آگئی

datetime 11  مارچ‬‮  2020 |

کراچی(آ ن لائن ) وفاقی حکومت نے بیرون ممالک سے وطن پہنچنے والے مسافروں کے طبی معائنے کیلیے نئی حکمت عملی اپنالی ہے جسے پیسنجر ٹریسنگ کانام دیا گیا۔وفاقی حکومت نے وطن پہنچنے والے مسافروں کے طبی معائنے کیلیے نئی حکمت عملی اپنالی ہے۔

اس منصوبے کے تحت ایئرپورٹ پر مسافروں سے وصول کی گئی سفری دستاویزات کو صحت اور سرویلینس کے متعلقہ محکموں کے حوالے کر دیا جائے گا اور یہ متعلقہ محکمے کے اہلکار واپس آنے والے مسافروں کے شہروں میں ان سے رابطہ کرکے ان کا ’’فالواپ طبی معائنہ‘‘ کر سکیں گے اور اس منصوبے پر عملدرآمد کے ذریعے ایسے مریضوں کی تلاش اورتشخیص کی جاسکے گی جو ایئرپورٹ پرطبی معائنے کے وقت توبظاہرصحت مند تھے تاہم ان میں کسی بھی قسم کاوائرس اگرموجود ہوا تواسے ازاں بعد ’’ٹریس‘‘کیا جاسکے گا۔وزیر اعظم کے معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی اس ہدایت پر سینٹرل ہیلتھ اسٹیبلشمنٹ نے نئی ٹریسنگ پالیسی پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے جس کے تصدیق ڈائریکٹر سینٹرل ہیلتھ ڈاکٹر عرفان طاہرنے میڈیا سے بات چیت میں کی، ان کاکہنا تھاکہ بیرون ممالک سے ملک بھرمیں آنے والے تمام مسافروں کی ٹریسنگ کی ہدایت دیدی گئی ہیں۔واضح رہے کہ دنیا کے102ملکوں میں کرونا وائرس کی وباکے بعد بیرون ملک سے واپس آنیوالے پاکستانیوں کے سفری کوائف ائیرپورٹ پر ہی وصول کرلیے جاتے ہیں جس میں مسافروں کا سفری ڈیٹا شامل ہے، سفری ڈیٹا میں مسافروں کے پتے اور ٹیلیفون نمبر درج ہوتے ہیں ان فون نمبر پر مسافروں سے رابطہ کرکے متعلقہ حکام دوبارہ طبی معائنے کریں گے تاکہ یہ معلوم کیاجاسکے کہ مسافر کو گھر پہنچنے کے بعد بخار یا فلوکی شکایت تو نہیں، فلویا بخار کی شکایت پرمذکورہ مسافر کے اہلخانہ اور ان کے رابطے میں رہنے والوں کے بھی طبی ٹیسٹ کرائے جائیں گے۔علاوہ ازیں وفاقی حکومت کی جانب سے ملک کے10ائیرپورٹس پر تھرموگن اورتھرمو اسکینگ انتہائی موثرانداز سے جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…