بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

عورت مارچ کے متنازع نعرے ’میرا جسم میری مرضی‘ کا سلسلہ تھم نہ سکا قرۃ العین بلوچ کی حقوق مانگنے والی خواتین پر تنقید سے نئی بحث چھیڑ دی

datetime 6  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کی معروف گلوکارہ قرۃالعین بلوچ نے حقوق مانگنے والی خواتین کو تنقید کا نشانہ بنایا جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا سلسلہ شروع ہوگیا۔عورت مارچ کے متنازع نعرے ’میرا جسم میری مرضی‘ کو لے کر ایک نا ختم ہونے والی بحث کا سلسلہ تا حال نہیں تھم سکا۔ جیوز نیوز کے مطابق جہاں متعدد لوگوں کی جانب سے عورت مارچ اور اس دن خواتین کی جانب سے

اٹھائے جانے والے پلے کارڈز کی حمایت کی جارہی ہے تو وہیں بہت سے لوگ اس کے خلاف بھی ہیں۔اس حوالے سے مختلف شوبز شخصیات کی جانب سے ملے جلے انداز میں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔’وہ ہم سفر تھا‘ گانے سے شہرت حاصل کرنی والی گلوکارہ قرۃ العین بلوچ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا جس کے بعد انہیں بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔قرۃ العین بلوچ نے ٹوئٹر پر حقوق مانگنے کے لیے آواز بلند کرنے والی خواتین پر تنقید کی۔گلوکارہ نے ٹوئٹ میں لکھا کہ ’اصل فیمینسٹ کام کرتی ہیں، اپنے حقوق مانگنے کے لیے چیخ و پکار مچانے میں وقت ضائع نہیں کرتیں‘۔قرۃالعین بلوچ کے اس ٹوئٹ پر ایک نئی بحث چھڑ گئی اور لوگوں کی جانب سے انہیں آڑے ہاتھ لیا گیا۔ندا کرمانی نامی صارف نے قرۃ العین بلوچ کے بیان کو مایوسی قرار دیا۔حنا تبسم نے کہا کہ ’آج آپ جو یہ ٹوئٹ کرنے کے قابل ہیں وہ صرف ان لوگوں کی وجہ سے ہے جنہوں نے اس حق کے لیے آواز اٹھائی تھی۔ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ’مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی‘۔ہما عامر نامی صارف نے کہا کہ’ اپنے آپ کو شرمندہ مت کریں، پہلے تھوڑی تحقیق کریں پھر آئیں‘۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…