اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

لاہورہائیکورٹ کا تمام ٹی وی چینلز پر  کونسا پبلک سروس میسجز چلانے کا حکم  جاری کر دیا

datetime 6  مارچ‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی )لاہور ہائیکورٹ نے جوڈیشل واٹر کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد کیس کی سماعت کرتے ہوئے پانی کو محفوظ بنانے کیلئے تمام ٹی وی چینلز پر پبلک سروس میسجز چلانے کا حکم دیتے ہوئے جوڈیشل واٹر کمیشن سے منسلک افسروں کے تبادلوں سے روکتے ہوئے تبدیل کئے گئے افسروں کا نوٹیفکیشن واپس لینے کا حکم دیدیا ۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق کی

درخواست پر سماعت کی۔جوڈیشل واٹر کمیشن کی طرف سے سید کمال حیدر ایڈووکیٹ نے رپورٹ پیش کی۔ فاضل عدالت نے کہا کہ جوڈیشل واٹر کمیشن نے لاکھوں گیلن پانی ضائع ہونے سے بچایا ہے،جوڈیشل واٹر کمیشن نے بہترین کام کیا ہے۔ سید کمال حیدر ایڈووکیٹ نے کہا کہ واٹر کمیشن کے ساتھ منسلک عملے اور افسروں کے تبادلے کر دیئے گئے ہیں۔ جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ کس نے تبادلے کر دیئے ہیں، چیف سیکرٹری پنجاب نے واٹر کمیشن سے منسلک عملے کو تبدیل نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔ فاضل عدالت کو بتایا گیا کہ ڈائریکٹر ایڈمن پیر قریسی نے تبادلے کئے۔ فاضل عدالت نے لاء افسر کو حکم دیا کہ متعلقہ حکام کو عدالتی حکم سے آگاہ کر دیں، تبادلوں کے حکم واپس لیں ورنہ توہین عدالت کی کارروائی کیلئے تیار ہو جائیں، میں نے تو حکم دیا تھا کہ کسی عملے کا تبادلہ نہیں کیا جائے گا۔ فاضل عدالت نے لاء افسر سے استفسار کیا کہ پانی سے متعلق واٹر کمیشن کے اقدامات کو کیسے تمام ٹی وی چینلز پر چلایا جا سکتا ہے اس حوالے سے پیمرا سے ہدایات لے کر پیش ہوں۔پبلک سروس میسجز تمام ٹی وی چینلز پر چلائے جائیں۔ فاضل عدالت نے کیس کی مزید سماعت 13 مارچ تک ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…