ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

”میرا جسم میری مرضی“ کا مقصد جسم فروشی کو قانونی شکل دینا ہے احمدبٹ نے پاکستان میں مغربی تہذیب لانے والوں کو آڑے ہاتھوں لے لیا

datetime 6  مارچ‬‮  2020 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)’’میرا جسم میری مرضی‘‘ پورے پاکستان ایک موضوع کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں دیکھو جسے دیکھو اس پر بات اور بحث کر تا دکھائی دے رہا ۔ اس حوالے سے معروف ادکار احمد علی بٹ نے سوشل میڈیا کی ویب سائٹ پر ایک بیان جاری کیا جس کے مطابق اس تحریک کا مقصد جسم فروشی کو قانونی شکل دینا ہے ، یہ ایک تہذیب ہے جس کا استحصال کیا جارہا ہے ۔

انسٹا گرام پر انہوں نے لکھا کہ دین اسلام نے عورت کیلئے حقوق بتائے ہیں انہیں ہر وہ شے دی جارہی ہے جس کی وہ مستحق ہیں ۔ کچھ خواتین مغربی تہذیب یہاں لانا چاہتی ہیں تا کہ جسم فروشی ایک قانونی عمل بن جائے اور لوگوں میں فحاشی پھیلے۔واضح رہے کہ ’’ میرا جسم ، میری مرضی پر خوب تنقید کے نشتر برسائے جارہے ہیں ۔ قبل ازیں اداکارہ وینا ملک کا ڈرامہ رائٹر خلیل الرحمان قمر کا دفاع ، ماروی سرمدکو گینڈا قرار دیدیا ۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ جو لوگ ڈرامہ رائٹر خلیل الرحمان قمر پر عورت کی تضحیک کا الزام عائد کررہے ہیں وہ غور کریں سماجی کارکن ماروی سرمد اور گینڈے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ساتھ ہی ساتھ مسکراتے ہوئے ایموجیز بھی شیئر کئے ۔پہلے ٹویٹ کا معاملہ ابھی تھمانہ تھا کہ اداکارہ وینا ملک نے ایک پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ تمام بے غیر ت ایک بے حیا عورت کے حق میں نکل آئیں ہیں۔ اس کے علاوہ وینا ملک نے ایک مزاحیہ تحریر بھی لکھی۔ بھینس گئی شو میں شو میں آیا خلیل خلیل نے کیا ذلیل بھینس نے ذرا نہیں کیا فیل دیسی لبرلز ٹھنڈے پیدائشی نسلی گندے واضح رہے نجی ٹی وی پر دوران پروگرام سماجی کارکن ماروی سرمد کا میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگانے پر ڈرامہ رائٹر خلیل الرحمان قمر نے کہا کہ اپنا جسم دیکھو جا کے، کوئی تھوکتا نہیں ہے آپ کے جسم پر، تیرے جسم میں ہے کیا، اس پر مرضی چلاتا کون ہے؟ بے حیا عورت کے جسم پر کوئی تھوکتا بھی نہیں ہے، گھٹیا عورت، خلیل الرحمان قمر ماروی سرمد پر برس پڑے۔نجی نیوز چینل کے ایک لائیو شو میں معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر اور خاتون صحافی ماروی سرمد کے درمیان انتہائی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے شو میں خلیل الرحمان قمر اور ماروی سرمد بطور مہمان گفتگو کا حصہ تھے جس میں عدالت کی جانب سے خواتین مارچ کی اجازت سے متعلق بات چیت جاری تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…