ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

میراجسم میری مرضی بے حیا نعرہ باہرجانے کی آزادی ہو یا سترتک کپڑے پہننا ،میں عورتوں کے حقوق کاسب سے بڑاحامی لیکن ۔۔خلیل الرحمن قمر نے معافی مانگنے سے پہلے اپنی بھی شرط رکھ دی

datetime 5  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی) مصنف، ڈرامہ نگارخلیل الرحمان قمر نے کہاکہ وہ عورتوں کے حقوق کا سب سے بڑے حامی ہیں۔ خلیل الرحمان قمر نے کہاکہ کسی خاتون کو اس کے جسم کانام لے کر اور شکل کانام لیکر مخاطب کرنے کی نہ قانون اجازت دیتاہے نہ آئین اجازت دیتاہے اور نہ ہی شرع اجازت دیتی ہے لیکن کیا کسی مردکوشٹ اپ کہنے کی اجازت ہے۔

نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب پروگرام ہو رہاتھاتو میں نے نہایت احترام سے کہاکہ میں عرض کرنا چاہتا ہوں جب سینیٹرصاحب نے بات کی تو وہ بیچ میں بولیں، جب میں بولا تو وہ بیچ میں بولیں تومیں نے منع کیا تو انھوں نے کہا کہ شٹ اپ۔ میں اس وقت رائٹر نہیں بلکہ انسان تھانقدجواب دوںگاکوئی بات کہہ کر جائے کہاں وہ وہ برابری مانگ رہی ہیں پھر عورت اور مردکی کیاتفریق کہاں رہ گئی ہے۔خلیل الرحمان نے کہا کہ عورت کے پاس کیاحق ہے کہ وہ کسی مردکوگالی دے، شٹ اپ کہنامیرے لیے گالی ہے جس کی میں کسی کو اجازت نہیں دے سکتا، مجھے یاد ہے کہ جوکچھ ہواایسا ہونا نہیں چاہئے تھا لیکن انہوں نے مجھے گالی دی میں نے اس پر رسپانس دے دیا،میں معافی کیوں مانگوں وہ اپنی شٹ اپ کی معافی مانگ لے میں اگلی شٹ اپ کی معافی مانگ لوںگا۔انہوں نے کہا کہ میں عورتوں کے حقوق کاسب سے بڑاحامی ہوں، عورت کی تعلیم ہو ان کی جائیدادمیں حصہ ہو باہرجانے کی آزادی ہو یا سترتک کپڑے پہننا ہو لیکن یہ ایک بے حیانعرہ ہے کہ میراجس میری مرضی،انہوں نے اس نعرے کوپدرشاہی نظام کانام لے کر اوریجنیٹ کیاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…