پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

رواں مالی سال مہنگائی کتنے فیصد رہنے کا امکان ہے ؟ گور نر اسٹیٹ بینک نے بتادیا

datetime 3  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) گور نراسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ رواں مالی سال مہنگائی 11سے بارہ فیصد رہے گی ،اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کام فارن ایکسچینج ریزورز کا تحفظ کرنا ہے ،نیٹ ریزورز میں اضافہ ہوا ہے،اگر ریزورز بڑھتے جائیں گے تو معیشت بہتر ہوگی،زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ جارہا تو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی،خزانہ خالی نہ ہو آئی ایم ایف سمیت کسی

کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ منگل کو قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ہوا جس میں گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی جانب سے پی اے سی کو مانیٹری پالیسی اور مہنگائی پر بریفنگ دی ۔ گور نر اسٹیٹ بینک نے کہاکہ جولائی سے زرمبادلہ ذخائر میں ساڑھے نو ارب ڈالر اضافہ ہوا، ذخائر بڑھتے رہے تو آئی ایم ایف سمیت کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔رضا باقر نے کہاکہ ڈالر 162 سے 155 روپے کی سطح پر آچکا ہے، مہنگائی میں 2 فیصد کمی آگئی، مزید کم ہوگی، اس مالی سال مہنگائی 11 سے 12 فیصد رہے گی۔ انہوںنے کہاکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کام ہے کہ فارن ایکسچینج ریزورز کا تحفظ کرے،نیٹ ریزورز میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوںنے کہاکہ اگر ریزورز بڑھتے جائیں گے تو معیشت بہتر ہوگی،کچھ عرصہ پہلے مارکیٹ میں استحکام نہیں تھا۔ انہوںنے کہاکہ اب مارکیٹ میں ایکسچینج ریٹ کی وجہ سے استحکام ہے،مہنگائی پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ مانیٹری پالیسی میں اسٹیٹ بینک کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔ خواجہ آصف نے کہاکہ ملک میں ہاٹ منی کی سرمایہ کاری کرنے والے افراد کے نام بتائیں ۔ رضا باقر نے کہاکہ پالیسی ریٹ کم ہونے سے بزنس مینوں نے کوئی زیادہ سرمایہ کاری نہیں کی ۔رضا باقر نے کہاکہ پرائیویٹ سرمایہ کاری جی ڈی پی کا 9 سے 10 فیصد ہے ،ایکسپورٹرز کیلئے انٹرسٹ ریٹ انتہائی کم ہے ۔رضا باقر نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ ریزورز ایکپسورٹ کی وجہ سے بڑھیں ۔

اسٹیٹ بینک حکام نے کہاکہ ہاٹ منی کی مد میں 3 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی مد میں پاکستان آیا ہے ،ہاٹ منی کا علم ہوتا ہے کہ کہاں سے کس ملک سے پیسہ آرہا ہے ۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہاکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ویب سائیٹ پر ان ممالک کا نام لکھا ہوتا ہے جہاں سے پیسہ آرہا ہوتا ہے ۔ممبر کمیٹی خواجہ آصف نے کہاکہ ان اداروں کا نام بتائیں جو سرمایہ کاری کررہے ہیں ۔ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے

بتایاکہ یقین ہو مہنگائی کم ہوگی تو شرح سود پر نظر ثانی کا راستہ ملے گا ،مانیٹری کمیٹی مہنگائی کی صورتحال کو مد نظر رکھ کر شرح سود پر نظر ثانی کا فیصلہ کرتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ مہنگائی میں حالیہ اضافہ عارضی تھا ،سپلائی متاثر ہونے سے مہنگائی میں اضافہ ہوا گورنر اسٹیٹ بینک ،روپے کی قدر گرنے سے بھی مہنگائی میں اضافہ ہوا ،ڈیڑھ سال میں ایک ڈالر 105سے 162روپے تک پہنچا ۔رضا باقر نے کہاکہ

روپے کی قدر گرتی ہے تو درآمدات مہنگی ہوجاتی ہیں ۔ گور نر اسٹیٹ بینک نے کہاکہ ایکسچینج ریٹ اور انٹرسٹ ریٹ کا آپس میں تعلق ہے،کئی ماہ سے فارن کرنسی اکاؤنٹس ہولڈرز روپے کے سیونگ اکاؤنٹس میں منتقل ہورہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ جولائی کے بعد روپے کی قدر میں استحکام آیا ۔ انہوںنے کہاکہ ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ کی بنیاد پر کردیا ،حکومت نے اصلاحات کا عمل شروع کیا تو خزانہ خالی تھا ۔

رضا باقر نے کہاکہ گذشتہ آٹھ ماہ میں زرمبادلہ کے ذخائر میں ساڑھے نو ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا ،اسی دوران ایک ارب ڈالرز سکوک کی ادائیگی بھی کی ۔رضا باقر نے کہاکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ جارہا تو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔رضا باقر نے کہاکہ خزانہ خالی نہ ہو آئی ایم ایف سمیت کسی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ رضا باقر نے کہاکہ ہاٹ منی کے

حوالے سے غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ،ماضی میں کئی بار ہاٹ منی پاکستان آچکی ہے ،ہاٹ منی کوئی نئی چیز نہیں ۔رضا باقر نے کہاکہ عالمی سرمایہ کاری اسٹاک یا بانڈز خریدتے ہیں ۔ گورنر ا سٹیٹ بینک نے کہاکہ پاکستان دنیا کا واحد ملک نہیں جہاں ہاٹ منی آئی ہے ،عالمی سرمایہ کاری صرف انٹرسٹ ریٹ نہیں بلکہ ایکسچینج ریٹ بھی دیکھتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ اب تک 3ارب ڈالرز کی ہاٹ منی آئی ہے ،ہاٹ منی ہمارے قرض کا محض پانچ فیصد بنتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہاٹ منی کا حصہ بہت کم ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…