اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

“پچھلے تین دن سے ایسا لگ رہا ہے جیسے میں دہشتگردہوں اور محلے دار مجھے دہشتگرد سمجھ رہے ہوں، سنجیو کمار نامی ہندو نوجوان نے اپنی جان پر کھیل کر انتہاپسند ہندوؤں سے ایک حاملہ مسلمان خاتون سمیت مسلمان ہمسایوں کی جان بچالی سنجیو کمار کی بیٹی کو اس مسلمان خاندان سے محبت کیوں تھی اور کیوں روتی رہی؟رلادینے والی تفصیلات

datetime 28  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ہندو نوجوان نے اپنی جان کر کھیل کر انتہا پسند ہنددئوں کے ہاتھوں سے مسلمان پڑوسی کی جان بچالی ۔ تفصیلات کے مطابق دہلی میں انتہاپسندوں ہنددئوں کا شر عروج پر ہے ہر طرف آگ اور خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے ۔ انتہاپسند ہنددئوں کا دنگافساد جاری ہے ۔ ان کا پہلا ٹارگٹ مسلمانوں کی جانیں ہیں ،یہ مساجد شہید کر رہے ہیں ، قرآن مجید کے کے اوراق جلائے جارہے ہیں ۔

لوگوں کے دکانیں ، گھر جلائے جارہے ہیں ۔وہیں سنجیو نامی نوجوان نے مثال قائم کرتے ہوئے اپنے مسلمان ہمسائے مجیب الرحمان کی جان بچالی ۔ ہندو نوجوان کا کہنا تھا کہ میرے نزدیک انسانیت ہی سب سے بڑا مذہب ہے انسانیت کے ناتے میرا فرض بنتا تھا کہ میں اپنے پڑوسیوں کی حفاظت کروں ۔ سنجیو کا کہنا تھا کہ اپنے مسلمان ہمسائے کے گھر کی ایک خاتون حاملہ تھی میں نے  اسے بلوائیوں کے ہاتھوں سے بچاتے ہوئے موٹرسائیکل پر بٹھا کر ڈسپنسری پہنچا یا ۔ ہندو نوجوان کا کہنا تھا کہ انتہا پسند ہندو میرے پڑوسی مجیب الرحمان اور اس کی فیملی کو مارنے کیلئے دروازہ توڑنے میں مصروف تھے ۔ تب انہوں نے فون کیا کہ ہماری جان کو خطرہ لاحق ہے کیا ہمیں آپ کے گھر میں پناہ مل سکتی ہے جس پر سنجیونے انہیں کہا یہ گھر کیا پورا محلہ آپ کا ہے ۔ جس کے بعد انہیں جا کر اپنے گھر لے آیا ۔ مسلمانوں کی املاک جلنے پر سنجیو کی آنکھوں میں آنسو تھے اس نے بتایا کہ میں پچھلے تین دن سے یہ محسوس کر رہا تھا کہ جیسے میں کوئی دہشت گرد ہوں اور محلے دار مجھے دہشتگرد سمجھے رہے ہوں ۔ اس موقعے پر سنجیو نے اپنی بیٹی سے ملایا جس نے مسلمان فیملی کے واپس جانے کے بعد کھانا نہیں کھایا بلکہ رو رو کر ہلکان ہو گئی ۔ سنجیو کی بیٹی پریانکا کہنا تھا کہ میں اس لیے روئی ہوں کہ جب میں چھوٹی سی تھی تو انہوں نے مجھے اپنی بیٹی سمجھ کر پالا ہے ۔ سنجیو نے بتایا کہ میں صبح آٹھ بجے

دوکان پر چلا جاتاہوں اور میری بیٹی مسلمان فیملی کے گھر رہتی تھی اور وہی انہیں کھلاتے پلاتے اور اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے رہے ہیں ۔ اس کا مزید کہناتھا کہ مجیب الرحمان بھائی کے بچے نہیں انہوں نے میری اولاد کو اپنی اولاد سمجھ کر پالا ہے اور ایسے موقعے پر اگر میں ان کی کوئی مدد نہ کرتا تو شاید میں زندگی بھر خود کو کبھی معاف نہ کر پاتا لیکن مجھے اپنے پڑوسیوں کے کام آنے پر دل سے خوشی ہوئی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…