جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ٹرمپ سمیت کئی عالمی رہنماؤں کا ڈی این اے چْرا لیاگیا طاقتور سربراہانِ مملکت کا ڈی این اے کب چرایا گیا، یہ ڈی این اے کی بولی کتنی لگائی ، رقم پاکستان روپوں میں کتنے کروڑ بنتی ہے ؟ جانئے

datetime 21  فروری‬‮  2020 |

نیویارک(این این آئی) دی ’’ارنسٹ پروجیکٹ‘‘ نامی ایک آن لائن گروپ نے چار عالمی رہنماؤں کا ڈی این اے انٹرنیٹ پر نیلامی کیلیے پیش کردیا ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ ڈی این اے کے یہ تمام نمونے 2018ء  میں منعقدہ ’’ورلڈ اکنامک فورم‘‘ ڈاووس کے دوران مختلف عالمی رہنماؤں کے زیرِ استعمال رہنے والی چیزوں پر موجود ہیں جنہیں چوری کرکے محفوظ کرلیا گیا تھا۔گروپ کا مؤقف ہے کہ

دنیا بھر کی سرمایہ دار کمپنیاں اور حکومتیں ایک عام انسان کا حساس ڈیٹا ہر وقت جمع کرتی رہتی ہیں، چاہے صارف کو اس کی خبر ہو یا نہ ہو؛ اور چاہے یہ عمل صارف کی مرضی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔لیکن بات صرف یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی بلکہ صارفین کا ذاتی ڈیٹا کاروباری فائدے اور سیاسی مفاد تک کے لیے استعمال بھی کیا جاتا ہے جبکہ سرمایہ دار ادارے اس کی خرید و فروخت بھی کرتے ہیں جو تخلیہ (پرائیویسی) اور اخلاقیات، دونوں ہی کے خلاف ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ یہ مسئلہ بھی سنگین سے سنگین تر ہوتا جارہا ہے۔جن طاقتور عالمی رہنماؤں کا ڈی این اے چوری کیا گیا ہے ان میں امریکی صدر ٹرمپ، جرمن چانسلر انجیلا مرکل، فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتین یاہو کے نام لکھے گئے ہیں تاہم اس فہرست میں دیگر عالمی رہنما بھی شامل ہیں۔ڈی این اے کے یہ نمونے نیپکنز، کافی کپ، جار، ٹوٹے ہوئے بالوں، سگریٹ فلٹرز، گلاسوں اور ناشتے کے کانٹوں پر محفوظ حالت میں موجود ہیں جن کی بولی 1200 ڈالر (تقریباً ایک لاکھ 85 ہزار روپے) ڈالر سے لے کر 65000 ڈالر (ایک کروڑ پاکستانی روپے) سے شروع کی جائے گی۔ البتہ یہ نہیں بتایا گیا کہ کس چیز پر کونسے عالمی رہنما کا ڈی این اے موجود ہے۔ارنسٹ گروپ کا مؤقف ہے کہ ڈی این اے کی شکل میں جب طاقتور عالمی رہنماؤں کا نجی ڈیٹا دنیا میں فروخت ہوگا تو انہیں اس معاملے کی سنگینی کا احساس ہوگا، اور شاید تب کہیں جاکر ایک عام شہری کی نجی معلومات کو تحفظ دینے کیلیے ٹھوس اقدامات بھی کیے جائیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…