پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

ذو الفقار علی بھٹو کو بھی ڈکٹیٹر نے پیدا کیا تھا ، پھر لیڈر بنے، تحریک انصاف کے اہم رہنما باتوں باتوں میں بہت کچھ کہہ گئے

datetime 20  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما صداقت علی عباسی نے کہاہے کہ ذو الفقار علی بھٹو کو بھی ڈکٹیٹر نے پیدا کیا تھا ، پھر لیڈر بنے ،آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کو صرف سندھ تک ہی محدود کر دیا۔

پی ٹی آئی بدعنوانی کو بہت بڑی برائی سمجھتے ہیں اور اسی کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں،سیاستدانوں کو چور ڈاکو تو ضرور کہتے ہیں ، غیر اخلاقی گفتگو نہیں کرتے ،بس ہمارا بدعنوانی کے بارے میں سخت رویہ ہے۔ ایک انٹرویومیں صداقت علی عباسی نے کہا کہ ذوالفقار علی خان کو بھی ڈکٹیٹر نے پی پیدا کیا تھا البتہ وہ لیڈر بنے لیکن آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کو صرف سندھ تک ہی محدود کر دیا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کئی مشکلات کو سہنے کے بعد وزیر اعظم بنے اور قوم نے ان کو منتخب کیا،وہ نہ صرف سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے بلکہ انہوں نے ملک کو ایک اعزاز سے بھی نوازا۔صداقت علی عباسی نے کہا کہ پی ٹی آئی بدعنوانی کو بہت بڑی برائی سمجھتے ہیں اور اسی کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حزب اختلاف کو پی ٹی آئی اس لیے بْری لگتی ہے کہ ان کے پیٹ پر لات ماری گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کی معیشت کو بہت زیادہ بہتر کیا ہے جبکہ ہمیں معیشت انتہائی برے حال میں ملی تھی۔ دنیا کے بڑے بڑے معیشت دان ہمارے پالیسی کی تعریف کر رہے ہیں۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما قادر پٹیل نے اسمبلی میں انتہائی غیر اخلاقی ذاتیات پر مبنی تقریر کی جبکہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے کبھی بھی پارلیمنٹ میں ایسی تقاریر نہیں کیں۔

ہم کسی کی ماں بہن کے خلاف بات نہیں کرتے سیاستدانوں کو چور ڈاکو تو ضرور کہتے ہیں لیکن غیر اخلاقی گفتگو نہیں کرتے بس ہمارا بدعنوانی کے بارے میں سخت رویہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پر بے تکی تنقید اور صرف تنقید برائے تنقید کی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر بہت ساری غیر اخلاقی چیزیں ہو رہی ہیں اور لوگوں کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں۔ پاکستان میں بڑی بڑی کمپنیوں کو ایک قوائد میں لانے کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…