منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

بھینس چوری کا تنازع! 100 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے

datetime 17  فروری‬‮  2020 |

کشمور (این این آئی)سندھ کے ضلع کشمور میں 2004ء میں بھینس چوری کا تنازع خوں ریز قبائلی تصادم میں تبدیل ہوا جس کے دوران اب تک 100 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں تاہم تنازعہ ختم نہ ہو سکا ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق لڑنے اور مارے جانے والوں کے مطابق قبائلی تصادم نہ ہو تو سردار کی سرداری کی پہچان کیسے ہوگی؟

سوال یہ ہے کہ حکومت کو کیا عزیز ہے؟ سرداروں کی سرداری یا اپنے شہریوں کے جان و مال؟۔ضلع کشمور میں کند کوٹ شہر کے قریب میر الٰہی بخش گوٹھ کے رہائشی شیر زمان بجارانی ایک صحافی ہیں، جن کا اس تنازع سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، مگر قبائلی تنازع کا حصہ صرف اس لیے بن گئے کہ اْن کے نام کے آگے بجارانی لگا ہوا ہے، اس شناخت کے باعث ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں،گزشتہ دنوں شیر زمان بجارانی کے گھر پر مسلح افراد نے حملہ کیا اور یہ حملہ اْس تازہ جھگڑے کا شاخسانہ ہے جو اْوگائی برادری کے کھیت میں تیغانی قبیلے کے جانور چھوڑنے سے شروع ہوا۔اس کے بعد فریقین نے ایک دوسرے کا ایک ایک فرد اغواء کر لیا، شیر زمان بجارانی کا ایک ہاری بھی قتل ہوا۔اْوگائی اور بجارانی حلیف اور تیغانی مخالف قبیلہ ہے، جن کے درمیان تنازع 2004ء میں اس وقت شروع ہوا تھا جب اْوگائی قبیلے کی 2 بھینسیں چوری ہوگئی تھیں۔بھینس چوری کا الزام تیغانیوں پر لگا تھا ، جواب میں تیغانیوں کے سردار تیغیو خان تیغانی کی بھینس چوری ہوئی، پھر یہ چوریاں خونریز تصادم اور انتقام میں بدل گئیں۔2012ء تک انتقام کی آگ میں 102 جانیں چلی گئیں، سیکڑوں زخمی اور درجنوں معذور ہوگئے، حکومت کے دبائو پر مقامی سرداروں نے مل کر صلح کرائی۔

زیادتی کرنے پر تیغانیوں پر جرمانہ ہوا تاہم یہ جرمانہ متاثرین کو نہیں ملا جس پر تنازع ابھی تک جاری ہے۔مخالفین تیغانی قبائل پر جھگڑا شروع کرنے اور ان کے سردار تیغو خان تیغانی پر جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کا الزام لگاتے ہیں۔بعض لوگوں کے مطابق ایسے تنازعات سرداروں کی سرداری برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں،خصوصاً الیکشن کے موقع پر قبائلی کشیدگی ووٹرز کو اپنے سردار کے قریب کر دیتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…