کراچی(نیوزڈیسک) ماہر امراض جلد ڈاکٹر منظور میمن نے کہا ہے کہ جلد کی بیماری ارٹیکیریاکی سنگین کیفیت میں حلق، زبان یا پھیپڑوں میں سوجن آسکتی ہے اور سانس لینے میں بھی دشواری ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
دی یوودھ ان ایسوسی ایشن کے تحت کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر منظور میمن کا کہنا تھا کہ اس بیماری کو مختلف زبانوں میں مختلف نام دیے گئے ہیں، اس بیماری میں جلد پر سرخ اور سفید دھبے پڑ جاتے ہیں، سوجن سمیت خارش بھی ہوسکتی ہے جب کہ اس کیفیت میں خارش، سوجن اور چبھن بیک وقت بھی ہوسکتی ہے۔
ڈاکٹر منظور نے بتایا کہ اس بیماری کی بہت سی وجوہات ہیں جیسے بیت الخلا کے استعمال کے بعد ہاتھ نہ دھونے، دانت برش نہ کرنے سے پیٹ میں کیڑے پیدا ہوجانابھی اس بیماری کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے، یہ بیماری ادویات کے ردعمل اور ذیابیطس بڑھنے کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے، مریض کی آنکھیں اور ہونٹ سوجھ جاتے ہیں جن میں شدت پیدا ہونے کے بعد حلق میں بھی سوجن آجاتی ہے اور سانس لینا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شدت بڑھنے کی صورت میں مریضوں میں خود اعتمادی کم ہو جاتی ہے جب کہ مریض کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔
جلدی بیماری سے زندگی کوخطرہ لاحق ہوسکتاہے، ڈاکٹرمنظورمیمن
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ٹرمپ ایران سے معاہدے کیلئے پاکستان آنے کے خواہش مند ہیں مگر انہوں نے ایک شرط بھی رکھی ہے: حامد میر...
-
شین وارن کی موت کے پیچھے کس کا ہاتھ؟ بیٹے نے 4 سال بعد نام بتا دیا
-
بجلی صارفین ہوشیار! شام 5 سے رات 1 بجے کے دوران لوڈشیڈنگ کا نیا شیڈول آگیا
-
لائیو شو میں غیر اخلاقی حرکت پر فضا علی کا ردعمل سامنے آگیا
-
گریٹ گیم
-
پاکستان کے اہم علاقے سے سونانکل آیا ، مقامی آبادی کی بڑی تعداد جمع ہو گئی
-
درجنوں سیاسی خاندان تحریک انصاف میں شامل
-
اختیارات کے ناجائز استعمال اور خاتون سے ناجائز تعلقات قائم کرنے پر ڈی ایس پی نوکری سے فارغ
-
ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مالیت کیا ہے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ
-
پہلے خریدیں بعد میں پے کریں ، مشہور کمپنی علی بابا کا پاکستان کیلئے اہم اعلان ، لائسنس جاری ہو گیا
-
توانائی کے حوالے سے پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری
-
معروف ریسٹورنٹ سے مضرِ صحت گوشت برآمد ، سیل کر دیا گیا
-
سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور ’’ہاؤسنگ کالونی‘‘ منظور، کون ہوگا اہل؟



















































