جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

ٹرمپ کو بھارت کا دورہ کرنے سے قبل انتہائی بڑا دھچکا لگ گیا ، فیصلہ سنا دیا گیا

datetime 14  فروری‬‮  2020 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ چھیڑنے کے صوابدیدی اختیارات محدود کر دیئے۔ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر ٹم کین کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے حق میں 8 ریپبلکن سینیٹرز نے بھی ووٹ دیئے اور 100 اراکین پر مشتمل ایوان نے قرارداد 45کے مقابلے میں 55 ووٹوں سے منظور کر لی۔سینیٹر ٹم کین کا کہنا ہے کہ

صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف کوئی بھی ایکشن لینے سے پہلے کانگریس سے منظوری لینا ہو گی۔ٹم کین اور قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالنے والے دیگر اراکین کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد نہ تو ٹرمپ کے حوالے سے ہے اور نہ ہی صدر کے حوالے سے بلکہ یہ قرارداد جنگ کے اعلان کے حوالے سے کانگریس کے اختیارات کی اہمیت کے حوالے سے ہے۔سینیٹر ٹم کین نے کہا کہ ٹرمپ یا دیگر صدور کے پاس کوئی بھی فوری حملہ کرنے کے لیے امریکا کے دفاع کی اہلیت ہو، ایک بھرپور جنگ کے لیے کانگریس میں بحث اور ووٹ ضروری ہو گا۔خیال رہے کہ ڈیموکریٹک اکثریت والے ایوان نمائندگان نے بھی گزشتہ ماہ جنگ کے لامحدود اختیارات کے حوالے سے ایک قرارداد منظور کی تھی۔ہاؤس کے اکثریتی رہنما اسٹینی ہائیر کا کہنا ہے کہ اس ماہ کے آخر میں سینیٹ کی قرارداد کو بھی ایوان نمائندگان میں پیش کیا جا سکتا ہے۔صدر ٹرمپ کے اختیارات کو ویٹو کرنے کے لیے ایوان نمائندگان اور سینیٹ سے قراردادوں کی دو تہائی اکثریت سے منظوری لازمی ہو گی۔واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا بھارت کا دورہ شیڈول ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…