منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

“جہانگیر ترین کی شوگر ملز میںشریف فیملی کا کونسا قریبی رشتہ دار شیئرز ہولڈر ہے؟ حکومتی وزیر زرتاج گل وزیر کا انکشاف‎

datetime 13  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)شوگر مافیاز کے بارے میں بہت زیادہ لوگ بات کر رہے ہیں ، اس سارے معاملے پر لوگوں کی بڑی تعداد جہانگیر خان ترین اور خسرو بختیار کا نام لیتی ہے لیکن میں آپ کے پروگرام کے ذریعے لوگوں کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ شوگر ملز میں بڑی تعداد زرداری ، شریف فیملی اور زرداری فرینڈز کی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں

وفاقی وزیر زرتاج گل نے کہا ہے کہ پورے پاکستان میں اس وقت 82شوگر ملز ہیں جن میں 18فیصد شوگر ملز زرداری کی ہے ، 12فیصد شوگر ملزم شریف فیملی کی جبکہ 16فیصد شوگرملزم مالکان زرداری کے قریبی دوست احباب ہیں ۔ڈیڑھ فیصد ، چار شوگر ملزم ہیں جو جہانگیر ترین اورخسرو بختیار کی ملکیت میں ہیں ، جہانگیر ترین اور خسروبختیار کی شوگر ملز میں شیئر ہولڈر مریم نواز کے سمدھی چودھری منیر بھی ہیں ۔ زرتاج گل کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کے شوگر ملزم میں جو ورکرز کام کر رہے ہیں وہ سب بے حد خوش ہیں کیونکہ انہی سیلری وقت پر ملتی ہے ۔ ان کی شوگر ملز کا ڈیٹا نکلوا لیں آپ کو کوئی بھی ایسا شخص نظر نہیں آئے گا جو یہ شکایت کرتا ملے کہ انہوں نے اپنا فائدہ حاصل کر لیا لیکن ورکرز تک نہیں پہنچایا ۔ وفاقی وزیر زرتاج گل کا مزید کہنا تھا کہ لوگوں کو یہ بات پتہ نہیں ہے ، 82شوگر ملز کا فائدہ کون لوگ اٹھا رہے ہیں ، کونسا مافیا ہے جو فائدہ اٹھا رہا ہے اس میں جو بھی شخص ذمہ دار ہے یہ اس کی غلط فہمی ہے کہ وہ کوئی فائدہ اٹھا سکتا ہے یا الزام لگا سکتا ہے ۔کلیکٹر یا ڈپٹی کلیکٹر لیول ذمہ داران تھے پہلی دفعہ ملکی تاریخ میں ایسا ہوا کہ تحریک انصاف نے کرپٹ افسران کو آٹے بحران کے ذمہ داروں کو فارغ کیا ہے ۔لوگوں کو دکھانے کیلئے چھوٹے موٹے لوگوں کو فارغ کرنا بڑا آسان ہے ۔قصور ڈی پی او کرے آپ فارغ سپاہی کو کر دیں تو یہ کوئی انصاف نہ ہوا ۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…