منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

مرگی کا مریض صحت مند زندگی گزار سکتاہے، طبی ماہرین نے خوشخبری سنا دی، ماؤں کو بچوں کے حوالے سے اہم بات بھی بتا دی گئی

datetime 13  فروری‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی)طبی ماہرین نے کہا کہ مرگی کا مرض بچپن، جوانی اور پچاس سال کی عمر ہوجانے کے بعد بھی ہو سکتا ہے یہ بیماری قابل علاج ہے لہذا اس مرض میں مبتلا افراد کی حوصلہ افزائی کی جائے جبکہ پاکستان میں ایک محتاظ اندازے کے مطابق مرگی کے مریضوں کی تعداد تقریبا 20لاکھ ہے۔مرض میں مبتلا مریض کوجوتا سنگھانا،تھپڑ مارنا، پانی ڈالنا، منہ میں انگلی ڈالنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا،اہل خانہ کو کوشش کرنا چاہئے کہ ایسے مریض کو زخمی ہونے سے بچایا جائے۔

ان خیالات کا اظہار پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز میں پروفیسر خالد محمود، پروفیسر احسن نعمان، پروفیسر اطہر جاوید،پروفیسر ایم نعیم قصوری، ڈاکٹر محسن ظہیر،اور ڈاکٹر شاہد مختار آگاہی سیمینار میں کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹروں، پیرا میڈکس کے علاوہ مریضوں کے عزیز و اقارب بھی موجود تھے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نیورو سرجنز اور نیورولوجسٹس نے کہا کہ مرگی کا مرض لا علاج نہیں صحت یابی ممکن ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ مرض کی تشخیص بر وقت کی جائے۔ یہ دماغی بیماری ہے جس کاعلاج 21ویں صدی میں جدید آپریشن اور ادویات کی مدد سے ممکن ہے اورمریض صحت یاب ہو کر نارمل زندگی گزار سکتا ہے جبکہ حاملہ خواتین احتیاط کے ذریعے تندرست بچے کو جنم دے سکتی ہے۔ پروفیسرز صاحبان کا کہنا تھا کہ مرگی کے مریض دوروں کے دوران دماغی طور پر نارمل ہو تے ہیں۔ یہ مرض 95فیصد مورثی نہیں ہوتا ہے، مرگی کی گئی اقسام ہیں، صحیح تشخیص سے علاج بہتر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 50سال کے بعد مرگی کی اہم وجہ ہائی بلڈ پریشر،شوگر اوربرین ٹیومر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات بچوں کے پیٹ میں عجیب سا درد ہوتا ہے لیکن مائیں اس پر توجہ نہیں دیتیں یہ علامات بچوں کیلئے خطر ناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی کو مرگی کا مرض ہے تو اسے اور اس کے اہل خانہ کو چاہئے کہ وہ اپنے معالج سے فرسٹ ایڈ کی مکمل معلومات حاصل کریں۔ طبی ماہرین کا مزید کہناتھا کہ مرگی کے مریض کو فوراً مستند ڈاکٹر یا نیورو فزیشن سے رجوع کرنا چاہیے۔خون کے متعلقہ ٹیسٹ، ای ای جی،ای ایم جی اور ایم آر آئی کروا کر باقاعدہ ادویات استعمال کرنی چاہئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…