منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

زرداری اور شہباز شریف کے لیے کوئی جگہ نہیں،تحریک انصاف کے کارکنان تیزی سے کون سی جماعت میں شامل ہو رہے ہیں؟ دھماکہ خیز انکشاف سامنے آ گیا

datetime 8  فروری‬‮  2020 |

پشاور(آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی ان ہاؤ س تبدیلی پر یقین نہیں رکھتی۔اس کے نتیجے میں ایک بار پھر خرید وفروخت کا بازارگرم ہوگا اور چانگا مانگا کی سیاست دوبارہ شروع ہوگی۔ان ہاؤ س تبدیلی کے خلاف جماعت اسلامی مزاحمت کرے گی۔ان ہاؤ س تبدیلی عوام کے خلاف اور عوام کے ایجنڈے کے خلاف سازش ہوگی۔جماعت اسلامی قبل ازوقت انتخابات کا مطالبہ کرتی ہے تاکہ عوام کو ووٹ کے صحیح استعمال کا موقع ملے۔

سابقہ پی پی پی اورمسلم لیگ کے حکومتوں نے ملک کے معیشت کو تباہ کر دیاتھا اور ان کے ادوار میں 31 ہزار ارب روپے قرض لیے گئے جب کہ پی ٹی آئی کے حکومت کے 18 ماہ میں دس ہزار ارب روپے قرض لیے گئے۔ملکی سیاست میں اب زرداری اور شہباز شریف کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔موجودہ حکومت نے بھی تبدیلی کا نعرہ لگایا لیکن تبدیلی کے بجائے عوام کے مشکلات میں اضافہ کیااور اب پی ٹی آئی کے اپنے کارکنان مایوس ہوکر بڑی تیزی کے ساتھ جماعت اسلامی میں شامل ہورہے ہیں۔ تبدیلی لانے والے سو فیصد ناکام ہوچکے ہیں، اداروں کو کمزور کردیا اور معیشت کے سارے اختیارات آئی ایم ایف کے حوالے کیے گئے اب وہ براہ راست مالیاتی اداروں کو کنڑول کر رہے ہیں۔ ملک کے شرح ترقی میں کمی آئی ہے اور ملک میں ایک خوف کی فضاہے۔وہ مرکز اسلامی پشاور میں مرکز اسلامی پشاور میں ذمہ داران جماعت سے گفتگو اور ترکی کے بین الاقوامی خبررساں ایجنسی انادولو نیوز ایجنسی کو خصوصی انٹرویو دے رہے تھے۔اپنے انٹرویو میں سینٹر سراج الحق نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کارکردگی کی عمدہ مثال تو یہ ہے کہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں 18 مہینوں میں کوئی بھی قانون سازی نہ کرسکے، قومی اداروں کو بیچ کر ملک کو چلایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سود ہمارے معیشت کے ترقی کے راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے سودی نظام کے خاتمے کے بغیر ہماری معیشت ٹھیک نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کوئی سیاسی جماعت نہیں مختلف الخیال لوگوں کا مجموعہ ہے جواپنے مفادات کے لیے اکھٹے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کرپٹ ترین حکومت بن چکی ہے جس میں جائز کام بھی بغیر رشوت کے نہیں ہورہا ہے۔عوام کا حکومت پر سے اعتماد ختم ہوچکا ہے اس لیے وہ ٹیکس بھی نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تبدیلی، روٹی کپڑ ااورمکان دینے سمیت تمام دعوے جھوٹے ثابت ہوئے، حقیقی تبدیلی، روزگارکی فراہمی اور مہنگائی سے نجات سمیت تمام مسائل کا حل قرآن و سنت کے نفاذ میں ہے۔ عوام نے تمام نظام اور لوگوں کو آزمالیا اب حل صرف اسلامی نظام اور دیانتدار قیادت ہے۔ جماعت اسلامی ملک میں اصلاح معاشرہ کے ساتھ افراد کی کردار سازی اور شریعت کے نفاذ کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…