بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

ڈی سی دالبندین کا کروڑوں کی منشیات تحویل میں لینے اور مقدمہ درج کرنے سے انکار مجھے نہیں سمجھ آرہا یہ کونسا قانون ہے،اسسٹنٹ کمشنر عائشہ زہری کی ویڈیو وائرل

datetime 8  فروری‬‮  2020 |

کوئٹہ(این این آئی)وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کے حکم پر ڈپٹی کمشنر دالبندین فتح محمد خان کا کروڑوں روپے کی برآمد منشیات تحویل میں لینے سے انکار پر تحقیقات شروع کر دی گئیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق تین روز قبل اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) عائشہ زہری نے بڑی تعداد میں کروڑوں روپے کی مالیت کے کیمیکلز کی کھیپ جسے منشیات میں استعمال کیا جاتا تھا اپنے ساتھی اہلکاروں کے ساتھ

کامیاب آپریشن کرتے ہوئے برآمد کیں مگر جب وہ دالبندین کے لیویز تھانے پہنچیں تو ڈپٹی کمشنر دالبندین فتح خان نے اس کا مقدمہ درج کرنے اور برآمد شدہ مال کو تحویل میں لینے سے انکار کر دیا اس حوالے سے عائشہ زہری نے اپنی ایک ویڈیو میں بتایا کہ کارروائی کے دوران حوصلے بلند تھے اور جان ہتھیلی پر رکھ کر اسے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کامیاب بنایا تاہم تھانے پہنچنے پر تھانے کے انچارج اختر محمد خان نے بتایا کہ ڈی سی صاحب نے برآمد شدہ مال کو تحویل میں لینے سے انکار کر دیا ہے۔عائشہ زہری کا کہنا تھا کہ وہ یہ سن کر حیرت زدہ ہوگئیں اور انہیں نہیں سمجھ آیا کہ آخر ڈی سی صاحب نے کروڑوں روپے کی منشیات کو تحویل میں لینے سے کیوں انکار کیا۔انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں سمجھ آرہا یہ کونسا قانون ہے، میں اس چیز کو ابھی تک نہیں سمجھ پا رہی ہوں، میں نے بس اپنی رپورٹ لکھی ہے آگے جو کارروائی ہوگی وہ ضلع کرے گا۔اسسٹنٹ کمشنر کی وائرل ہونے والی ویڈیو پر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر چاغی و کمشنر رخشان ڈویژن کی طرف سے عدم تعاون کے الزامات پر انکوائری کے احکامات جاری کر دیئے۔وزیراعلیٰ جام کمال کی ہدایت پر گریڈ 20 کے آغا تیمور شاہ کو انکوائری آفیسر مقرر کر کے 3 روز میں انکوائری رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔دوسری جانب ڈپٹی کمشنر دالبندین فتح محمد خان نے اس پورے معاملے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ نہیں معلوم اے سی صاحبہ نے ایسا الزام کیوں عائد کیا ہے، حالانکہ تمام سامان اب بھی تھانے میں موجود ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…