بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

وزارت خارجہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان، شیریں مزاری وزارت خارجہ سے متعلق اپنے بیان پر ڈٹ گئیں

datetime 7  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری مسئلہ کشمیر سے متعلق وزارت خارجہ کے حوالے سے دیے گئے اپنے بیان پر ڈٹ گئیں۔اپنے ایک بیان میں شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ میں نے جو کچھ کہا ہے اس پر قائم ہوں اور آئندہ بھی کہوں گی۔وفاقی وزیر انسانی حقوق نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک ایسا معاملہ ہے

جس پر انہوں نے چار دہائیوں تک کام کیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ کے بیان کو حقائق کے برعکس پیش کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ دفترخارجہ کی بریفنگ میں نہ ان کا نام لیا گیا اور نہ ان کے کشمیر کے بارے میں بیان سے متعلق کوئی کمنٹ دیا گیا۔یاد رہے کہ 4 فروری کو قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے مسئلہ کشمیر سے متعلق وزارت خارجہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگادیا تھا۔اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے معاملے میں ہمارے ادارے خصوصاً وزارت خارجہ پوری طرح وزیراعظم عمران خان کو سپورٹ نہیں کرسکی۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کشمیر وژن کو بہت آگے لے جاچکے ہیں، وہ سمجھتی ہیں کہ کشمیر کاز کو اجاگر کرنے کے لیے وسعت نظری کی ضرورت ہے جو دفتر خارجہ نہیں کرسکی۔وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ وزارت خارجہ کو وزیراعظم کے وڑن کے مطابق بہت کچھ کرنا چاہیے۔دو روز بعد اپنی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کی ترجمان ڈاکٹر عائشہ نے کہا تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سمت قیادت کی سطح پر متعین کی جاتی ہے، خارجہ پالیسی حکومت بناتی ہے وزارت خارجہ اس پر عمل کرتی ہے۔عائشہ فاروقی کا یہ کہنا تھا کہ دفترخارجہ کے مسئلہ کشمیر پر کردار ادا نہ کرنے کی خبریں درست نہیں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…