بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

ایگزیکٹ کے بعد ایک اور بڑا سکینڈل سامنے آگیا

datetime 18  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) سینیٹ قائمہ کمیٹی انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹر شاہی سید کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاﺅس کے کمیٹی نمبر 1 میں منعقدہوا ۔وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور وزارت سے متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں اور کاکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ کے علاوہ ایوان بالاءمیں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن کے ایگزیکٹ کے بارے میں اٹھائے گئے نقطہ اعتراض سائبر کرائم بل2014 کے علاوہ چیئرمین سینیٹ کو گلگت بلتستان تک تھری جی کی سہولت کے حوالے سے موصول ہونے والی عوامی شکایت کے ایجنڈے پر تفصیلی بحث کی گئی ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ایک اور بڑا انکشاف کیا گیا کہ ایگزیکٹ کے بعد گرینڈ سر یٹفکیٹس فیصل آباد سکینڈل سامنے آنے والا ہے جنہوں نے عدالت سے حکم امتناعی بھی لے رکھا ہے اور سوا دو ارب روپے کے سافٹ ویئر ایکسپورٹ کی بجائے درحقیت نصابی کتابوں کے خلاصے اور گیس پیپر چھا پنے والی کمپنی نے سوا دو ارب روپے کے خلاصے فروخت کیے ہیںڈائریکٹرجنرل ایف آئی اے اکبر خان ہوتی نے آگاہ کیا گیا کہ ایگزیکٹ کا 95 فیصد کراچی اور 5 فیصد کام اسلام آباد میں ہوتا تھا دنیا بھر میں ایگزیکٹ نے دولاکھ جعلی ڈگریاں فروخت کیں زیادہ ڈگریاں امریکہ یورپ مشرق وسطیٰ میں فروخت کی گئیں امریکی فوج میں بھرتی ہونے کے خواہش مند نوجوانوں نے بھی جعلی ڈگریاں خریدیں ایگزیکٹ کو امریکہ میں دوارب 20 کروڑ کا جرنامہ اور سزاہوئی ایف آئی اے اس کیس کو انجام تک پہنچانے کےلئے بھرپو رکردار ادا کر رہی ہے ایگزیکٹ کے مالکان شعیب شیخ او را سکی بیوی نے سخت خوف پھیلایا ہواتھا ملازمین ایک دوسرے کا فون سننے سے ڈرتے تھے ایگزیکٹ سے نکالے گئے کچھ ملازمین ہمارے ہتھے چڑھے جن کے بیانات دفعہ164 کے تحت لئے گئے اور دو ایف آئی آرز درج کرائی گئی ہیں چند دنوں کے بعد چالان عدالت میں پیش کر دیا جائے گا ۔ امریکہ یورپ اور مشرق وسطیٰ سے امداد لی ہے جس سے ثابت ہوا کہ جن جن یونیورسٹیوں کے نام سے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…