جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

کرونا وائرس پھیلنے کا خدشہ، ائیرپورٹس کی طرح پاکستان نے اپنی بندرگاہوں کو کیسے محفوظ کر لیا ؟جانئے

datetime 3  فروری‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی) وفاقی وزیرِ بحری امور علی زیدی نے کہاہے کہ کرونا وائرس کے پیش نظر پاکستان آنے والے سمندری جہازوں کے عملے کو جہاز سے اترنے سے روک دیا گیا ہے،ہم نے ائیرپورٹس کی طرح اپنی بندرگاہوں کو محفوظ کر لیا ہے۔

علی زیدی کا کہنا تھا کہ اگر آئی جی سندھ نے کرپشن کی ہے تو سندھ حکومت الزامات ثابت کرے یہ لوگ آئی جی سندھ کو اس لئے ہٹانا چاہتے ہیں کہ وہ سندھ حکومت کے کام نہیں کر رہا،ہماری حکومت نے آئی جیز کے تبادلے ان کی کارکردگی کی بنیاد پرکیے،انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم حکومت سے ناراض ہوتی تو وفاقی حکومت چھوڑدیتی۔کراچی بوٹ کلب پر صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے علی زیدی نے کہاکہ جو بھی عملہ ہماری بندرگاہوں پر جہاز سے اترے گا اس کی اسکیننگ ہوگی ،جو اسکینرز ائیر پورٹ پر لگے ہیں وہی اسکینرز بندرگاہ پر بھی لگا دیے گئے ہیں،ہم نے اپنی بندرگاہوں کو محفوظ کر لیا ہے، پورٹ قاسم پر زیادہ جہاز آتے ہیں گوادرپر جہازوں کی آمد و رفت کم ہے،ایل این جی کے دو جہاز روزانہ آتے ہیں،ایک جہاز ڈھائی لاکھ اور دوسرا دو لاکھ ستر ہزار ڈالر چارج کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ حکومت نے ایل این جی کے دو ٹرمینل لگائے تھے،ہم مہنگاہی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ،سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے،سندھ حکومت کا ایک وزیر ٹی وی پر آئی جی کے خلاف باتیں کرتا ہے،وزیر اعلی سندھ کہتے ہیں میں آئی جی کو دیکھ لوں گا،اگر آئی جی نے کرپشن کی ہے تو سندھ حکومت الزامات کو ثابت کرے یہ لوگ آئی جی سندھ کو اس لئے ہٹانا چاہتے ہیں کہ وہ سندھ حکومت کے کام نہیں کر رہا۔

ہماری حکومت نے آئی جیز کے تبادلے ان کی کارکردگی کی بنیاد پرکیے ہیں،سندھ حکومت سندھ پولیس کے کاموں میں روکاوٹ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلی سندھ دھیما دھیما نہ کھیلیں،سندھ پولیس سے لڑنے کا فائدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ اتحادی ہمیں بلیک میل نہیں بلکہ مزاکرات کرنا چاہتے ہیں کراچی میں صفائی کرائی تو وہاں مرے ہوئے جانور اور ریت سے بھری بوریاں ڈال دی گئیں ،کراچی کی ترقی سے پاکستان کی ترقی جڑی ہے ،ایم کیو ایم ناراض ہوتی تو حکومت چھوڑ دیتی،ایم کیو ایم سے کمیٹی کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…