جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

کرونا وائرس کی شناخت ممکن، بچاؤ کے نئے طریقے سامنے آگئے ،عالمی ادارہ صحت نے دنیا کو بڑی کوخوشخبری سنا دی

datetime 31  جنوری‬‮  2020 |

جنیوا( آن لائن) اقوامِ متحدہ کے تحت قائم عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) نے چین میں نئے کرونا وائرس کی وبا 18 ممالک میں پھیلنے کے بعد اسے عالمی ایمرجنسی قرار دے دیا ہے ۔30 جنوری کو ڈبلیو ایچ او کے صدر دفتر میں منعقدہ ہنگامی اجلاس میں چینی ماہرین نے چینی شہر ووہان سے پھوٹنے والے کرونا وائرس کی نئی قسم سے 213 افراد کی موت کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ

7711 مریضوں میں تصدیق ہوئی جب کہ 12 ہزار 167 مریض مشتبہ قرار دیئے گئے ہیں، ان مریضوں میں 1370 افراد تشویش ناک ہیں اور صرف 124 افراد ہی صحت مند ہوکر ہسپتال سے فارغ ہوئے ہیں۔عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کی عالمی ایمرجنسی کے ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے 18 ممالک میں 82 نئے کیس سامنے ا?ئے ہیں لیکن بتایا گیا کہ ان میں سے صرف 7 افراد ایسے ہیں جنہوں نے چین کا سفر نہیں کیا تھا۔ چین سے باہر تین ممالک میں کرونا وائرس ایک فرد سے دوسرے میں منتقل ہوا ہے۔ واضح رہے کہ چینی حکام عالمی ادارہ صحت سے ہر روز مسلسل رابطے میں ہیں۔ڈبلیو ایچ او نے چینی حکام کی جانب سے کرونا وائرس کی فوری شناخت اور جینیاتی تجزیئے پر چینی کارکردگی کو سراہا۔ اس کی بدولت اب دنیا بھر میں کرونا وائرس کی شناخت ممکن ہوگئی ہے اور بچاؤ کے نئے طریقے بھی سامنے آئے ہیں۔واضح رہے کہ چین میں کرونا وائرس کا سب سے پہلا کیس گزشتہ برس دسمبر میں سامنے آیا تھا اور اس کے بعد کئی ممالک کے چین سے سامان کی ترسیل اور پروازیں تک روک دی ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے اپنے شہریوں کو چین کا سفر کرنے سے روک دیا ہے اور امریکی محکمہ خارجہ نے چوتھے درجے کی وارننگ جاری کی ہے۔غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ چین نے عالمی ادارہ صحت کو اس نئے وائرس کے کیسز کے حوالے سے پہلی بار دسمبر کے

آخر میں آگاہ کیا تھا۔دنیا کے 18 ممالک میں کورونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جن میں امریکا، فرانس، جاپان، جرمنی، کینیڈا، جنوبی کوریا، ویت نام، آسٹریلیا، فلپائن، بھارت اور دیگر ممالک شامل ہیں۔علاوہ ازیں روس نے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے چین کے ساتھ اپنی سرحد کو فوری طور پر بند کردیا جب کہ روسی حکومت نے چینی شہریوں کو فوری طور پر ویزوں کا اجرا بھی روک دیا ہے۔روسی حکام کا کہنا ہیکہ چین کے ساتھ ریلوے کے ذریعے آمدروفت بھی محدود کی جائے گی جس کے بعد 31 جنوری سے صرف ماسکو اور بیجنگ کے درمیان چلنے والی ٹرینیں جاری رکھی جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…