بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

ایف بی آر میں جعلی رجسٹریشن پر کمپنیوں کو کروڑوں کے ٹیکس ریفنڈ دیے جانے کا تہلکہ خیز انکشاف، قومی خزانے کو بڑا نقصان

datetime 29  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد ( آن لائن)ایف بی آر میں جعلی رجسٹریشن پر کمپنیوں کو کروڑوں رو پے کے ٹیکس ریفنڈ دئیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ٹیکس افسران نے ایم ایس ایس ایس پیکجز اینڈ گارمنٹس کو جعلی ٹرانزیکشن پر 2010 اور 2011 کے دوران ان پٹ ایڈجسمنٹ کلیم کرنے پراور میوفیکچرنگ کی سہولت دستیاب نہ ہونے کے باوجود قومی خزانہ کو ایک کروڑ سے زائد کا نقصان برادشت کرنا پڑا۔

وفاقی ٹیکس محتسب نے منگل کو ایک آرڈر میں چیف کمشنر انکم ٹیکس کارپوریٹ آر ٹی او کراچی کو ہدایات جاری کی ہیں کہ جن افسران نے اس کمپنی کو رجسٹرڈ پرشن کا لیٹر جاری کیا ان کے خلاف ایکشن لیا جائے مزید براں اس کمپنی کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے اس سے پیسوں کی ریکوری کیا جائے اپنے ارڈر میں وفاقی ٹیکس محتسب نے کہا ہے کہ ایف بی آر کو متعدد بار ایڈ الرٹ جاری کے گئے اور ہدایات جاری کی گئی تھی کہ ان کی فزیکل تصدیق کی جائے مشتبہ ٹرانزیکشن کی دوباری تصدیق کے لیے آڈٹ کی جاَئے اور مارگلہ انڈسٹز کے سیل ٹیکس نمبر کو بلاک کیا جائے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف ایکش لیا جائے دستاویزات کے مطابق کہ ایف بی آر نے ان کو کمپنی کی انْ پٹ کلیم کو کارواءِ مکمل ہونے تک بلاک کر دیا تھااور اس کی سیل ٹیکس نمبر کو بھی بلاک لسٹ قرار دیے دیا تھا کیونکہ ان کا پتہ ٹھیک نہیں تھا، دستاویزات کے مطابق کمپنی نے سندھ ہائی کورٹ سے سیل ٹیکس رجسڑیشن کی بلیک لسٹنگ کے خلاف حکم امتناعی لیا تھا جو بحال ہو گیا تھا مگر حکام نے ان کا آڈٹ کیا تھا اور اکتالیس کروڑ کی ریکوری کے لیے خط لکھا تھا حکام نے بتایا کہ انہوں نے پانچ ریفنڈ کلیم کیے تھے لیکن ان میں سے ایک کی منظوری ہوئی تھی مگر اس میں بھی چیک نہیں دیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…