جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس منہ اور ناک کے علاوہ جسم کے کس حصے سے داخل ہوسکتا ہے؟ اگر آپ کی جانب کسی ایسے شخص کی چھینک آئے تو سائنسدانوں نے اس پھیلنے کی خوفناک وجہ بیان کر دی

datetime 29  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا کو تیزی سے پھیلتے ہوئے مہلک کرونا وائرس سے نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے، تاہم سائنسدانوں نے اس کے پھیلنے کی وجہ بھی بتادی۔روزنامہ جنگ میں شائع رپورٹ کے مطابق غیر ملکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس انسانی جسم میں آنکھوں کی مدد سے داخل ہوجاتا ہے۔چینی ڈاکٹر وانگ گنگفا نے انکشاف کیا کہ انہیں بھی یہ وائرس لاحق ہوسکتا ہے کیونکہ انہوں نے وائرس سے

بچنے والے چشمے نہیں پہنے ہوئے تھے۔ماہرین نے اس بات کی تصدیق بھی کی اور متنبہ کیا کہ چھینکوں اور کھانسی سے پھینلے والا یہ مرض نہ صرف آنکھ بلکہ آنکھوں سے بھی انسانی جسم میں داخل ہوسکتا ہے۔ایک برِ اعظم سے دوسرے برِ اعظم تک پھیلنے والے اس وائرس کی وجہ سے صرف چین میں ہی درجوں افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے ہیں۔امریکا، جاپان، تائیوان، جنوبی کوریا اور دیگر یورپی ممالک سمیت ایک ہزار سے زائد افراد اس وائرس کا شکار ہوکر اسپتالوں میں علاج کے لیے منتقل کیے جاچکے ہیں۔امپیریئل کالج لندن میں وائرس جینومکس کے پروفیسر پال کیلام نے وائرس کی آنکھوں کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہونے کی تصدیق کردی۔ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ کی جانب کسی ایسے شخص کی چھینک آئے تو یہ وائرس لے کر آپ کی جانب آسکتی ہے، اس کی وجہ سے پہلے آنکھیں جلنے لگیں گی یہ لیکریمل ڈکٹ کے ذریعے ناک تک پہنچے گی، پھر سانس میں شامل ہو جائے گی اور ساتھ ساتھ آپ کو بھی چھینکیں لگنا شروع ہوجائیں گی۔اگر آپ آنکھوں کی دوا لیں تو آپ اس دوا کے ذائقے کو اپنے حلق کے اندر تک محسوس کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ اس طرح فلو یا دیگر وائرسز کا پھیلنا غیر معلمولی بات نہیں ہے، آپ کو آنکھوں کی وجہ سے بھی سانس لینے کے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔پروفیسر پال کیلام نے تجویز پیش کی کہ ڈاکٹر یا طبی امداد فراہم کرنے والا عملہ اس سے بچنے کے لیے لازمی چشموں کا استعمال کرے۔اس معاملے میں ماسک جو آپ کے منہ اور ناک کو تو حفاظت فراہم کرتا ہے لیکن واضح طور پر یہ آنکھوں کی حفاظت نہیں کرتا۔پروفیسر پال کیلام کے اس دعوے کی یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن کے سینیئر ریسرچر ڈاکٹر مائیکل ہیڈ نے تائید کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…