منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

میگا سیکنڈلز میں بڑے بااثر افسران کا شکنجے میں آنے کا امکان عوام سے کروڑوں روپے لوٹنے والوں کیخلاف گھیراتنگ ہو گیا

datetime 28  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)آئیسکو میں جعلی میٹرز سیکنڈل پر وفاقی وزیر توانائی نے نوٹس لیتے ہوئے حکم دیتے ہوئے کرپشن اور کرپشن کے سہولت کاروںکے خلاف سخت ترین انکوائری کر کے رپورٹ ایک ہفتہ طلب کر لی ہے۔ڈائریکٹر جنرل انکوائری آفیسر مقرر،قوم کے پیسے کو بیدردی سے لوٹنے والے ایس ڈی اوز،ڈائریکٹرزو دیگر اعلیٰ افسران میں کھلبلی مچ گئی ۔معلومات کے مطابق وفاقی دارلحکومت میں

بوگس میٹرز کی تنصیب کا معاملہ پر وزارت توانائی بھی حرکت میں آ گئی ہے ،گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب نے سیکرٹری عرفان الہی کو کہا کہ کرپشن کرنیوالے خواہ کتنے بھی طاقتور کیوںنہ ہوں رعایت نہ برتی جائے اور اس معاملہ کی ایک بار پھر انکوائری کر کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے جس پر سیکرٹری نے ادارہ کے انتہائی محنتی آفیسر کو انکوائری ٹاسک سونپ دیا اور کہا کہ اس معاملہ میں جو بھی ملوث ہو معاف نہ کیا جائے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلی میٹرز سیکنڈلز پر عام شہریوںنے بھی دلچسپی لینا شروع کر دی ہے اس حوالہ سے بہت جلد ایک آئیسکو دفتر کے باہر مظاہر ہ بھی کیا جائے گا۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلی میٹرز کے میگا سیکنڈلز میں بڑے بااثر افسران کے بھی شکنجے میں آنے کا امکان ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس سے پہلے کی جانیوالی انکوائری ایسے آفیسر حمید اللہ کو سونپی گئی جس کا اپنا میٹر بنی گالا میں جعلی تھا اور وہ بیدردی سے استعمال کر کے سرچارج کے نام پر عام شہریوں سے وصول کیے جا رہے تھے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکنڈل کے اصل محرک ایس ڈی او سجاد ہیں جنہوں نے اپنے دو مہرے ٹھیکداروں کے ذریعہ جعلی میٹرز نصب کروائے علاوہ ازیں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ چھوٹے سے آفیسر کے تین پلاٹ غوری ٹاون میں بھی موجود ہیں اور اس پر ایف آئی اے نے سپیشل تحقیقات کا آغاز کر رکھا ہے ۔دوسری جانب پیپکو کے اعلیٰ افسران کے گرد بھی گھیرا تنگ کیے جانے کا امکان ہے ذرائع کے مطابق ان سے متعلق بھی شکایات وزارت کو موصول ہو چکی ہیں،واضع رہے کہ وفاقی دارلحکومت میں جعلی میٹرز کی تنصیب کا معاملہ اور پھر بوگس انکوائری پر وزارت نے کوئک ایکشن لیکر متحرک ہو گئی ہے اور ماہانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے کی بجلی چوری کر کے عام شہریوں کو اضافی سرچارج کے نام پر کنگال کیا جا رہا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…