منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

16فیصد مارک اپ پر انڈسٹری نہیں چل سکتی اگر بجلی اور گیس کے نرخ میں اضافہ کیا گیا تو معاشی حالات مزید خراب ہوں گے،دھماکہ خیز اعلان کر دیا گیا

datetime 27  جنوری‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی)فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف پی سی سی آئی) کے صدر میاں انجم نثارنے آل پاکستان فر ٹیلائزر ڈیلرز ایسوسی ایشن(اے پی ایف ڈی اے) کے وفد سے ملاقا ت میں کہاہے کہ16فیصد مارک اپ پر انڈسٹری نہیں چل سکتی۔اتنے زیادہ مارک اپ کی وجہ سے نئی انڈسٹری نہیں لگے گی اور نہ ہی روزگار کے نئے مواقعے پیدا ہو ں گے۔حکومت اگر بجلی اور گیس کے

نرخ میں اضافہ کرئے گی تومعاشی حالات مزید خراب ہو ں گے۔ بجلی اور گیس کے نرخ میں تبدیلی برآمدات کے لئے نقصان دہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ اس وقت بجلی کے نرخ ریجن کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں زیادہ ہیں۔بجلی اورگیس کی قیمتوں میں اضافے سے ہماری پروڈکشن بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کی دوڑ سے باہر ہو جائے گی۔ بجلی کے ٹیرف میں اضافے کی بجائے چوری کو روکا جائے۔پاکستان میں زراعت کی فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار دیگر ممالک کی نسبت بہت کم ہے۔فی ایکٹر پیداوار میں اضافہ کے لئے روایتی طریقوں سے ہٹ کر جدید طریقوں کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔بیج،حشرات کش دوا اور کھادوں کے معیار کو بہتر کرنے کے لئے جدید ریسرچ سے مدد لی جائے۔ میاں انجم نثار نے مزید کہاکہ پاکستانی مصنوعات کی بیرونی مارکیٹ تک رسائی ممکن بنانے کے لئے ایف پی سی سی آئی کے پلیٹ فارم سے خصوصی آواز اٹھائی جائے گی۔ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر ڈاکٹر محمد ارشدنے آل پاکستان فر ٹیلائزر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وفد کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہاکہ ایف پی سی سی آئی کو فعال کیا جائے گا تاکہ تمام ٹریڈ باڈیز کے مسائل حل کروائے جا سکیں۔ملک میں صنعت و تجارت کے فروغ کے لئے ریسرچ کے شعبہ پر خصوصی توجہ دینا ہو گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…