جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

مشرق وسطی کو درپیش مسائل خطرات ، ایران نے سعودی عرب کیلئے اہم ترین اعلان کر دیا

datetime 22  جنوری‬‮  2020 |

تہران( آن لائن ) ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ کو درپیش مسائل اور خطرات کے خاتمے کے لیے سعودی عرب کیساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق صدر حسن روحانی کے چیف آف اسٹاف محمود واعظی نے کہا ہے کہ ایران کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ایسے نہیں ہونے چاہیئے جیسے ہمارے امریکا کی طرح ہیں۔

محمود واعظی نے امریکا کا نام لیے بغیر کہا کہ ایران اور سعودی عرب سے زیادہ مشرق وسطیٰ کے حالات کو کوئی دوسرا ملک نہیں سمجھ سکتا اس لیے مشرق وسطیٰ کو درپیش مسائل اور خطرات سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کو مل کر کام کرنا چاہیئے جس کے لیے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات اچھے ہونا ضروری ہیں۔ایرانی صدر حسن روحانی کے چیف آف اسٹاف کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے سعودی عرب سے تعلقات کا بہتر ہونا خطے کے امن کے لیے بھی اہم ہے اور دونوں کو مشرق وسطیٰ سے امریکی اثر ورسوخ کا خاتمے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیئے۔ایران کا یہ بیان امریکی حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے ہلاک ہونے اور ردعمل میں ایران کے امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کے بعد سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہونے کے بعد سامنے ا?یا ہے جب کہ سعودی عرب نے ایران اور امریکا حالیہ تناو? پر مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔واضح رہے کہ ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب اور خمینی حکومت کے قیام کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات زیادہ تر کشیدہ ہی رہے ہیں جب کہ یمن کی صورت حال پر بھی دونوں ممالک ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے آئے ہی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…