منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پی ٹی آئی حکومت نے کتنے لاکھ ٹن گندم بیرون ملک فروخت کرنے کی اجازت دی ؟اجازت دیکر کتنے لاکھ ٹن بیچ دی گئی ؟ تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے

datetime 20  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان میں آٹے کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ ہونے کی وجہ سے صو بہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لوگ بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔پاکستان فلور ایسویسی ایشن کے ترجمان نے اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ آمد و رفت اور دیگر مسائل کی وجہ سے گندم مارکیٹ میں کمی ہوئی جسے پورا کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ

اوپن مارکیٹ میں گندم کی قلت اس لیے پیدا ہوئی ہے کیونکہ فیڈ ملز نے 7-8 لاکھ ٹن گندم کی اضافی مقدار استعمال کر لی ہے جو ایسی ہی صورتحال کے لیے ہر وقت محفوظ رکھی جاتی ہے۔ فیڈ ملز کو گندم دینے کا حکومتی فیصلہ غلط تھا۔اگر فیڈ ملز کو 7-8 لاکھ ٹن گندم نہ دی جاتی تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔گزشتہ مالی سال 2018-19ء میں گندم کی پیداوار کا تخمینہ 25.195؍ ملین ٹن لگایا گیا تھا لیکن اصل پیداوار 25؍ ملین ٹن سے کم یعنی 24.7؍ ملین ٹن رہی۔ 2017-18ء میں گندم کی پیدوار 25.076؍ ملین ٹن رہی جبکہ 2016-17ء میں یہ 26.674؍ ملین ٹن تھی۔ گندم کی ماہانہ کھپت 2؍ لاکھ ٹن ہے لہٰذا 24.7؍ ملین ٹن کی مجموعی پیداوار ملکی ضروریات کیلئے کافی تھی۔ اس کے ساتھ ہی پنجاب میں بھی گزشتہ مالی سال کی گندم کے ذخائر موجود تھے۔ پنجاب میں گندم کا ہدف 4؍ ملین ٹن تھا لیکن دستیاب 3.5؍ ملین ٹن تھی۔پہلے تو بحران نے سندھ سے اس وقت سر اٹھانا شروع کیا جب صوبے کی جانب سے گندم حاصل نہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ مختلف عہدیداروں کو گندم کی خریداری کے معاملے پر نیب اور دیگر تحقیقاتی اداروں سے تحقیقات کا سامنا تھا اسلئے انہوں نے گزشتہ سال گندم کی خریداری نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سب سے پہلے تو حکومت نے نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ کی وزارت کے اضافی گندم کے تخمینوں کو دیکھتے ہوئےو دو سے چار لاکھ ٹن گندم برآمد کرنے کا فیصلہ کیا لیکن گندم کی اصل برآمدات بڑھ کر 6؍ لاکھ 40؍ ہزار ٹن ہوگئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…