جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

خالد مقبول صدیقی کی جانب سے استعفے کا اعلان ، اعلان ہی رہا 5روز بعد بھی وزیراعظم آفس کو موصول نہ ہو سکا

datetime 16  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کا استعفیٰ چار روز گزرنے کے باوجود وزیراعظم آفس کو موصول نہ ہو سکا۔تفصیلات کے مطابق خالد مقبول صدیقی نے 12 جنوری کو پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

کنوینر ایم کیو ایم نے کہاکہ ہم نے مشکل کی ہر گھڑی میں وفاقی حکومت کا ساتھ دیا لیکن 18 ماہ گزرنے کے باوجود ہمارے ایک بھی مطالبے پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت سے علیحدہ نہیں ہو رہے لیکن اس صورت حال میں میرا حکومت میں بیٹھنا بے سود ہے اس لیے میں وفاقی کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کر رہا ہوں۔خالد مقبول صدیقی کے اعلان کے بعد وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر حکومتی وزراء حرکت میں آئے اور اسد عمر کی قیادت میں حکومتی وفد نے کراچی میں ایم کیو ایم رہنماؤں سے ملاقات کر کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔اسد عمر کی یقین دہانی کے باوجود کنوینر ایم کیو ایم نے وفاقی کابینہ میں واپسی کا فیصلہ واپس نہیں لیا اور اس عمر کو مایوس واپس لوٹنا پڑا۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایم کیو ایم ہماری اہم اور بہترین اتحادی جماعت ہے اور ان کے مطالبات جائز ہیں جنھیں دور کیا جائے گا۔ایم کیو ایم اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان اختلافات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ خالد مقبول صدیقی نے گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی تاہم ذرائع کے مطابق5روز گزرنے کے باوجود خالد مقبول صدیقی کا استعفیٰ تاحال ذرائع وزیراعظم آفس کو موصول نہیں ہو سکا ہے۔گزشتہ روز حکومت کی دوسری اتحادی جماعت مسلم لیگ ق سے بھی حکومتی وفد نے ملاقات کی تھی جس میں ق لیگ نے تحفظات دور کرنے کے لیے حکومت کو ایک ہفتے کا ٹائم دیا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…