جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

ا مریکہ میںممنوعہ اشیا کی تجارت کے الزام میں5پاکستانیوں پر فرد جرم عائد ملزمان امریکی اشیا خرید کر پاکستان کے کن 2اداروںکو بھیجتے تھے؟سنگین الزام لگا دیا گیا

datetime 16  جنوری‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی)پاکستان کے جوہری پروگرام کے لیے ممنوعہ اشیا برآمد کرنے کے الزام میں یک امریکی عدالت میں پانچ پاکستانیوں پر فرد جرم عائد کی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے ایک بیان میں کہاکہ یہ کاروباری افراد ایک بین الاقوامی نیٹ ورک سے منسلک رہے ہیں۔

ان ملزمان پر الزام ہے کہ وہ امریکی ساختہ اشیا خرید کر پاکستان کے ایڈوانسڈ انجنیئرنگ ریسرچ آرگنائزیشن (اے ای آر او) اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کو بھیجا کرتے تھے۔ان غیر قانونی درآمدات کی کل تعداد 38 تھی جنھیں ستمبر 2014 سے اکتوبر 2019 کے دوران ناجائز طور پر درآمد کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم ان اشیا کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔ان اشیا کو امریکہ کی 29 مختلف کمپنیوں سے حاصل کیا گیا۔تمام ملزم راولپنڈی کی ایک فرضی کمپنی بزنس ورلڈ سے منسلک تھے۔ نیو ہیمپشائر کی وفاقی عدالت میں ان افراد پر انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ اور ایکسپورٹ کنٹرول ریفارمز ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی۔امریکی محکمہ انصاف کے مطابق پاکستان سے تعلق رکھنے والے 41 سالہ محمد کامران ولی، 48 سالہ محمد احسن ولی اور 82 برس کے حاجی ولی محمد شیخ کا تعلق کینیڈا کے علاقے مسی ساگا اور اونٹاریو سے ہے۔امریکی محکمہ انصاف کا کہنا تھا کہ اشرف خان محمد کا تعلق ہانگ کانگ سے جبکہ 52 سالہ احمد وحید کا تعلق برطانیہ کے شہر الفرڈ سے ہے۔ ملزمان کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں لیکن ابھی ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔پاکستانی کمپنیاں ایڈوانسڈ انجنیئرنگ رسرچ آرگنائزیشن اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن امریکی محکمہ تجارت کی اس فہرست میں شامل ہیں جن کے لیے تجارتی لائسنس درکار ہوتا ہے ۔

کیونکہ ان کی سرگرمیاں امریکی قومی سلامتی یا خارجہ پالیسی کے مفادات کے خلاف قرار دی جاچکی ہیں۔امریکی محکمہ انصاف نے بتایا کہ پی اے ای سی کو 1998 میں مشتبہ اداروں کی فہرست میں اس وقت شامل کیا گیا جب پاکستان نے جوہری دھماکے کیے۔اے ای آر او کو 2014 میں اس فہرست میں شامل کیا گیا جب امریکہ کو پتا چلا کہ یہ ادارہ فرضی کمپنیوں کی مدد سے پاکستان کی کروز میزائل ٹیکنالوجی اور یو اے وی پروگرام کے لیے اشیا کے حصول کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…