جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

حکومت نے فوری اقدامات نہ کئے تو لڑاکا طیاروں کیلئے فیول موجود نہیں ہوگا، وزارت توانائی کی غفلت کے باعث افسوسناک صورتحال پیدا ہو گئی

datetime 6  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)سینٹ کی قائمہ کمیٹی پٹرولیم کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وزارت توانائی کی غفلت کے باعث پانچ مقامی ریفائنریاں بندش کے قریب پہنچ گئی ہیں، حکومت نے فوری اقدامات نہ لیئے توپاکستان ائیرفورس کے لڑاکا طیارے اڑانے کیلئے فیول موجود نہیں ہوگا جبکہ کمیٹی اجلاس میں بلوچستان کے سینٹرزنے وزیرتوانائی کے رویہ پرشدید احتجاج کیا،سینیٹرسرفراز بگٹی نے سوئی میں گیس کی عدم فراہمی پر بندوق اٹھانے کی دھمکی دیدی۔

پیر کو کمیٹی کا اجلاس سینٹرمحسن عزیزکی زیرصدارت ہوا کمیٹی کواٹک ریفائنری کے چیف ایگزیکٹو عادل خٹک نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے فرننس آئل کی پاور پلانٹس میں بندش سے ملک میں پانچ ریفانری نے گذشتہ سال تیئس ارب روپے کا نقصان کیا ہے،مشیرپٹرولیم ندیم بابر کوایک ماہ قبل معاملے کے حل کیلئے تجاویزدیں تاہم حکومت کی طرف سے کوئی اقدامات نہیں لئے گئے۔سینٹرنعمان وزیر نے پوچھا کہ ریفانیریاں بند ہوگئی تو ائیرفورس کوجیٹ فیول کہاں سے ملے گا جس میں عادل خٹک نے کہا کہ ائیرفورس کی تمام ضروریات مقامی ریفائنریاں پورا کرتی ہیں 1971کی جنگ میں بھی بھارت نے پاکستان کی بندرگاہوں کا محاصرہ کرلیا تھا اب بھی کشیدگی ہے مقامی ریفائیریاں بندہوگئی توائیرفورس کیلئے جیٹ فیول درآمد کرنا پڑیگا، کمیٹی نے اس پرشدید تشویش کا اظہار کیاسیکرٹری پٹرولیم نے کمیٹی کویقین دھانی کروائی کہ معاملہ کودو دن کے اندرحل کیا جائیگا اجلاس میں بلوچستان میں ایل پی جی ائیر مکس پلانٹس لگانے پر غور کیا گیا۔سینٹر محسن عزیز نے کہا کہ سوئی سدرن نے پلانٹ لگانے کیلئے بہت تاخیر کر دی ہے وزیر توانائی عمر ایوب کا موقف تھا کہ ان پلانٹس لگانے کیلئے لاگت حکومت کو برداشت کرنا ہے جبکہ بعد کی سبسڈی کون برداشت کریگا اس کا طریقہ کارابھی طے ہونا ہے سینٹر یوسف بادینی نے کہا کہ گیس بلوچستان سے نکلتی ہے تو گیس سسٹم کا حصہ کیوں نہیں ہے۔سینٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ ہمارے لیے لاگت اور قیمت کی بات کی جا رہی ہے

اس کے بعد بلوچستان کے تمام سینٹرز نے وزیر توانائی کے موقف پر کمیٹی اجلاس سے واک آؤٹ کردیا چیئرمین کمیٹی اجلاس سے اٹھ کربلوچستان کے سینٹرز کو منا کر دوبارہ اجلاس میں لائے۔سینیٹر سرفراز بگٹی نے سوئی میں گیس کی عدم فراہمی پرشدید احتجاج کیا۔انھوں نے کہا کہ سوئی میں آج بھی لکڑیاں جلا رہی ہیں ہم نے تمام زندگی وفاق کی بات کی مگر ان حالات میں دل کرتا ہے کہ پہاڑ پر چلا جاؤں بالاچ مری نے قبر سے ثابت کیا کہ اس کا موقف درست تھا سوئی سدرن حکام کا موقف تھا کہ سوئی میں حفاظتی نکاتی نظر سے رات دس بجے گیس بند کر دی جاتی ہے چیرمین کمیٹی سینٹر محسن عزیز نے ہدایت کہ کہ سوئی کے تمام علاقوں کوگیس فراہم کی جائے اورگیس لوڈشیڈنگ کودودن میں ختم کردیئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…