منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سونا ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، سابقہ تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے

datetime 4  جنوری‬‮  2020 |

کراچی(آن لائن) سونا ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔عالمی مارکیٹ میں سونا مہنگا ہونے سے پاکستان میں بھی سونے کی قیمت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ پاکستان میں اس وقت سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔تفصیلات کے مطابق سونا خریدنا اب عام آدمی کی پہنچ سے بلکل باہر ہو گیا ہے۔ فی تولہ سونا 550 روپے مہنگا ہوکر کر ملک کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی بازار میں سونا 40 ڈالر مہنگا ہوگیا ہے جس کے اثرات مقامی مارکیٹ پر دیکھے گئے اور فی تولہ سونا 550 روپے مہنگا ہوکر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا سونے کی فی تولہ قیمت 90 ہزار دو سو روپے ہوگئی ہے جبکہ دس گرام سونے کی قیمت 472 روپے اضافے کے 77 ہزار 332 روپے ہو گئی۔بین الاقوامی مارکیٹ میں گزشتہ روز سونے کی فی اونس قیمت میں 29ڈالرکا غیر معمولی اضافہ ہوا جس کے باعث مقامی مارکیٹ میں بھی فی تولہ سونے کی قیمت 1350 روپے کے اضافے سی89650روپے کی بلند سطح پر پہنچ گئی۔ آل کراچی صراف اینڈجیولرزایسوسی ایشن کے مطابق جمعہ کوبین الاقوامی گولڈ مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت29ڈالر کے غیر معمولی اضافے سی1551ڈالر ہوگئی جس کے زیر اثرکراچی،حیدرآباد، سکھر، ملتان، فیصل آباد، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت 1350روپے کے اضافے سے 89650ر وپے اوردس گرام سونے کی قیمت1157روپے کے ا ضافے سی76860روپے ہوگئی جب کہ چاندی کی فی تولہ قیمت 1020روپے اوردس گرام کی قیمت 874روپے مستحکم رہی۔گزشتہ کچھ ہفتوں سے سونے کی قیمت میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آرہا ہے لیکن آج سونے کی قیمت میں ایک دم بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافے کے بعد پاکستان میں بھی سونا بہت زیادہ مہنگا ہو گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…