جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

متنازع شہریت قانون ،سوارا بھاسکرنےآخر ایسا کونسا قدم اٹھا لیا کہ بھارت بھر میں ہنگامہ برپا ہوگیا؟جانئے

datetime 4  جنوری‬‮  2020 |

ممبئی (این این آئی)بھارتی اداکارہ سوارا بھاسکر بھارت میں جاری متنازع شہریت کے قانون کے خلاف جامعہ اسلامیہ کے طلباء  کے احتجاج کا حصہ بن گئیں۔بھارت میں متنازع شہریت کے قانون کے خلاف پچھلے کئی دِنوں سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور اِن مظاہروں میں کئی افراد ہلاک ہوئے جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اداکارہ سوارا بھاسکر نے

متنازع شہریت کے قانون کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء  کے احتجاج میں شرکت کی۔ اِس احتجاج کے دوران سوارا بھاسکر نے کہا کہ ’میں جامعہ کے طلباء کو سراہتی ہوں جنہوں نے اپنے احتجاج سے پورے بھارت کو جگایا۔‘سوارا بھاسکر نے کہا کہ ’ہم دیر سے ہی سہی لیکن اب جاگ چکے ہیں اور اب ہم مودی سرکار کے اِس گندے کھیل کے خلاف اْن سے لڑیں گے۔‘ اداکارہ نے کہا کہ ’میں ایک بار پھر طلباء  کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے ہم سب میں اِس ظلم کیخلاف آواز اْٹھانے کی بیداری پیدا کی۔‘اداکارہ نے کہا کہ ’مودی سرکار کے اِس کھیل کے پیچھے صرف ایک ہدف ہے اور وہ ہے بھارت کے مسلمان، کبھی مودی سرکار ’تین طلاق‘ پر پابندی کا قانون لے آتی ہے تو کبھی متنازع شہریت کا قانون لے آتی ہے۔‘اْنہوں نے کہا کہ ’اِس سے صاف دِکھائی دیتا ہے کہ مودی سرکار کا شکار صرف اور صرف بھارتی مسلمان ہیں لیکن مودی سرکار ایک بات یاد رکھے کہ اْن کے اِس ایجنڈے سے صرف بھارت کے مسلمانوں کو نقصان نہیں ہوگا بلکہ ہر بھارتی کو اِس کا خمیازہ بْھگتنا پڑے گا۔‘اْنہوں نے کہا کہ ’سی اے اے اور این آر سی (نیشنل رجسٹر آف سٹیزن) جیسے قانون سازی کے ذریعے نفرت کو قانونی حیثیت دی جا رہی ہے اور یہ صرف بھارت کے مسلمانوں پر حملہ نہیں ہے بلکہ بھارت کے آئین پر حملہ ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…