جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

969میگا واٹ کے نیلم جہلم پاور منصوبہ کی تکمیل پھر  لٹک گئی 15 ارب روپے سے شروع ہونے والے اس منصوبے کی  اب کتنے سو ارب تک جا پہنچی ہے ؟بجلی  صارفین سے10 پیسے فی یونٹ کیوں ادا کر رہے  ہیں؟ہوشربا انکشاف

datetime 31  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن)969میگا واٹ کے نیلم جہلم پاور منصوبہ کی تکمیل میں تاخیر ۔15 ارب روپے سے شروع ہونے والے اس منصوبے کی لاگت 404 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ نیلم جہلم منصوبہ کاغذات کے مطابق مکمل ہو چکاہے مگر تاحال بجلی  صارفین سے10 پیسے فی یونٹ کیوں ادا کر رہے  ہیں؟ چیئر مین  قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقی جنید اکبر کاسوال ۔ قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقی  کے

اجلاس میں چیئرمین کمیٹی جنید اکبر نے کہاکہ اس منصوبے کا دسمبر2017ء میں مکمل ہونے کا بتا یا گیا تھامگر اب فروری 2018ء کا بتایا جا رہا ہے۔ 15 ارب روپے سے شروع ہونے والے اس منصوبے کی لاگت 404 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے پھر بھی مقررہ وقت میں منصوبے کی تکمیل ہوتی نظر نہیں آ رہی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقی میں969 میگا واٹ کے نیلم جہلم پاور منصوبہ  کی تکمیل میں تاخیر اور 15 ارب روپے سے شروع ہونے والے اس منصوبے کی لاگت 404 ارب روپے تک پہنچنے پر ممبران نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ کہ سرکاری کاغذات کے مطابق  نیلم جہلم منصوبہ مکمل ہو چکاہے مگر تاحال بجلی  صارفین سے10 پیسے فی یونٹ ادا کر رہے  ہیں ۔ عوام کو عملی طور پر  ریلیف دی جائے نہ کہ کہانیاں سنائی جائیں  اس کے جواب میں نیلم جہلم ہائیڈروو پراجیکٹ کے سی ای او بریگیڈیئر(ر) محمد زرین نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقی کو بتایا کہ نیلم جہلم منصوبے کی بجلی فروخت کیلیے کوئی معاہدہ نہیں ۔ نیلم جہلم  سرچارج کی مد میں اب تک 70 ارب روپے جمع ہوئے، انہوں نے مزید کہا کہ اگر سینٹرل پاور پرچیز ایجنسی کی آمدنی دسمبر 2019 تک شروع نہیں ہوتی ہے تو این جے ایچ پی سی، واپڈا اور حکومت پاکستان ناہندگان ہوجائیں گے نیپرا نے اگست 2019 میں این جے ایچ پی سی کی درخواست پر عبوری ٹیرف میں

9.1184 روپے فی یونٹ ترمیم بھی کی تھی لیکن اسے بھی مطلع نہیں کیا گیا.انہوں نے بتایا کہ فی الحال آخری ٹیرف کی درخواست پر کارروائی جاری ہے  ۔سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی منصوبے سے بجلی خریداری کا معاہدہ جولائی 2018 سے کرے گی محمد زرین نے کمیٹی کو بتایا کہ واپڈا کے برعکس کمپنی کو ٹیکس میں چھوٹ تھی جبکہ آزاد جموں و کشمیر سے بجلی کی برآمد سے متعلق قانونی معاملات بھی تھے

محمد زرین نے کہا کہ واپڈا نے پہلے ہی سی پی پی اے کے ساتھ 200 بلین روپے سے زائد ادائیگیوں کا ذخیرہ کرلیا ہے. ان کا  مزید کہنا تھا کہ مذکورہ امور کی وجہ سے آزاد جموں کشمیر کو فی یونٹ 1.10 روپے کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے‘صارفین سے وصول کیے جانے والی نیلم جہلم سرچارج سے متعلق ایک سوال کے جواب میں محمد زرین نے کہا کہ اب تک تقریبا 70 ارب روپے وصول کیے جاچکے ہیں اور وہ کمپنی استعمال کررہی ہے لیکن سی پی پی اے کو فروخت کی گئی توانائی کے حساب سے 60 ارب ڈالر کی ادائیگی باقی نہیں رہی اس  موقع پر چیئرمیں کمیٹی نے حکام کو اس منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے  درپیش مشکلات  او ر ان کے حل کے حوالے سے تجاویز طلب کر لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…