منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی استعداد کتنی ہے؟ماہرین نے بہترین مشورہ دیدیا

datetime 31  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد ( آن لائن )پاکستان میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی استعداد 50 ہزار میگاواٹ ہے۔ جوگرمیوں میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب سے بھی دوگنا ہے۔ 2017 میں ملک میں ہوا سے 750 میگا واٹ بجلی پیدا کی جارہی تھی جو اب 2000 میگا واٹ تک بڑھ چکی ہے۔ متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے شعبہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے وسیع مواقع

دستیاب میں جن میں سورج ہوا  پانی اور کوڑے کرکٹ سے بجلی پیدا کرنے کے ذرائع شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ تیل و گیس سے بجلی کی پیداواری لاگت زیادہ ہوتی ہے اور دوسری جانب پاکستان پٹرولیم کی مصنوعات کی ملکی طلب پوری کرنے کے لئے درآمدات پر انحصار کرتا ہے اس لئے درآمدات بڑھنے سے زرمبادلہ کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہوا کی مدد سے 50 ہزار میگاواٹ سستی اور شفاف بجلی پیدا کرنے کی استعداد موجود ہے جس کی کئی عالمی ادارے بھی تصدیق کرچکے ہیں۔ماہرین نے کہا کہ ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے کارخانے 32 فیصد کی استعداد کے مطابق پیداوار حاصل کررہے ہیں جبکہ نئے لگائے جانے والے ونڈ پاور پلانٹس میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پیداواری صلاحیت کو 39 فیصد تک بڑھایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ونڈ کو ریڈورز میں اگر 3839فیصد پیداواری استعداد کے مساوی بھی بجلی پیدا کی جائے تو پھر بھی پاکستان صرف ہوا کی مدد سے 18تا 20 ہزار میگاواٹ باآسانی پیدا کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف دوسال کے قلیل عرصہ کے دوران ملک میں ہوا سے بجلی کی پیداوار میں 1250 میگا واٹ اضافہ ہوا ہے تاہم شفاف اور سستی بجلی پیدا کرنے کے لئے جامع حکمت عملی کے تحت مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…