جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والا میزائل،روس نے دنیا کو اب تک کا سب سے بڑا سرپرائز دیدیا

datetime 28  دسمبر‬‮  2019 |

ماسکو(نیوز ڈیسک)روس نے دعوی کیا ہے کہ اس نے آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ تیز ایونگارڈ ہائپر سانک میزائلوں کی پہلی کھیپ کی تنصیب کر دی۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق روسی وزارتِ دفاع نے اس اعلان کے ساتھ ان میزائلوں کی تنصیب کے مقام کا نہیں بتایا تاہم اس سے قبل حکام نے یہ اشارہ دیا تھا کہ ان کی تنصیب یورال کے خطے میں ہو گی۔

روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والا یہ میزائل آواز کی رفتار سے 20 گنا زیادہ تیزی سے سفر کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے، اور اس کے باعث روس اس ٹیکنالوجی میں دیگر تمام اقوام سے آگے نکل گیا۔ان میزائلوں میں مخصوص گلائیڈ سسٹم ہے جس کی وجہ سے یہ تیزی سے اپنی سمت اور بلندی تبدیل کر سکتے ہیں اور اسی خوبی کی وجہ سے اسے شکست دینا ناممکن ہو سکتا ہے۔وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے تصدیق کی کہ ایونگارڈ ہائپر سانگ گلائیڈ وہیکل کی 27 دسمبر کو ماسکو کے مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے تنصیب کر دی گئی۔صدر پیوٹن نے منگل کو اپنے بیان میں کہا کہ ایونگارڈ سسٹم موجودہ اور مستقبل کے میزائل شکن سسٹمز کو شکست دے سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کسی ایک بھی ملک کے پاس ہائپر سانک ہتھیار نہیں ہیں، پورے برِاعظم کی رینج رکھنے والے ہائپر سانک ہتھیار تو دور کی بات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مغرب اور دیگر اقوام اب ہماری سطح تک پہنچنے کی کوشش میں ہیں۔ صدر پوتن نے ایونگارڈ اور دیگر ہتھیاروں سے متعلق مارچ 2018 میں قوم سے اپنے سالانہ خطاب کے دوران بتایا تھا۔دسمبر 2018 میں جنوبی یورال کے پہاڑوں میں ایک آزمائشی لانچ کے دوران اس ہتھیار نے 6000 کلومیٹرکے فاصلے پر ٹارگٹ کو نشانہ بنایا تھا۔صدر پوتن نے اس ٹیسٹ کے بعد کہا تھا کہ کسی بھی ممکنہ دشمن کا کوئی موجودہ یا مستقبل کا دفاعی نظام ایونگارڈ کے لیے خطرہ نہیں۔

بین البرِاعظمی بیلسٹک میزائل کے اوپر نصب ہونے والے ایونگارڈ میں دو میگاٹن تک نیوکلیئر ہتھیار لے جانے کی صلاحیت ہے۔ روسی وزارتِ دفاع نے ایونگارڈ سسٹم کی ویڈیوز جاری کی ہیں مگر اسلحے کے ماہر اس سسٹم کے اثرانگیز ہونے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ ایونگارڈ کی صلاحیتوں کے بارے میں روس کے دعوؤں کی تفصیلات میں نہیں جائیں گے۔ امریکہ اور چین دونوں کے پاس ہی اپنے اپنے ہائپرسونک میزائل پروگرام ہیں۔ چین سنہ 2014 میں اس کی آزمائش کرنے کا بھی دعوی کر چکا ہے۔

گذشتہ ماہ 26 نومبر کو روس نے 2010 کے نیو سٹارٹ معاہدے کے ضوابط کے تحت امریکی ماہرین کو ایونگارڈ سسٹم کے معائنے کی اجازت دی تھی۔ یہ معاہدہ سٹریٹجک نیوکلیئر میزائل لانچرز کی تعداد گھٹانے کے لیے کیا گیا تھا۔فروری 2021 میں یہ معاہدہ ختم ہو جائے گا۔ نیو سٹارٹ معاہدہ امریکہ اور روس کے درمیان نیوکلیئر ہتھیاروں کے کنٹرول کے لیے طے پانے والا آخری بڑا معاہدہ ہے۔رواں سال اگست میں امریکہ نے انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز ٹریٹی(آئی این ایف) سے خود کو علیحدہ کر لیا تھا جو کہ1987 میں سوویت رہنما میخائل گورباشیف اور امریکہ کے صدر رونلڈ ریگن کے درمیان طے پایا تھا۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایک نیا نیوکلیئر معاہدہ چاہتے ہیں جس پر روس اور چین دونوں ہی دستخط کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…